پاک افغان جھڑپیں: 133 افغان اہلکار ہلاک، 200 سے زائد زخمی، پاکستان

dead bodies of Taliban dead bodies of Taliban

پاک افغان جھڑپیں: 133 افغان اہلکار ہلاک، 200 سے زائد زخمی، پاکستان

اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستانی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 133 افغان سروس اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بیان وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج نے کارروائی کے دوران 27 افغان سرحدی پوسٹیں تباہ کر دیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستانی افواج نے 80 سے زائد ٹینک، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کیں۔ جاری بیان میں کہا گیا کہ کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب افغانستان کی عبوری حکومت، یعنی اسلامی امارت افغانستان کے حکام نے جوابی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھڑپوں میں 40 پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے اور 15 سے زائد سرحدی پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق 22 فروری کو کی جانے والی کارروائیاں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان کے ٹھکانوں کے خلاف تھیں، جنہیں حالیہ دہشت گرد حملوں، بشمول اسلام آباد کی مسجد میں دھماکے، کے ردعمل میں نشانہ بنایا گیا۔ کابل حکام نے پاکستانی حملوں کو “جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اپنی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔