ایران نے روس سے فوجی مدد طلب نہیں کی، کریملن

kremlin kremlin

ایران نے روس سے فوجی مدد طلب نہیں کی، کریملن

ماسکو (صداۓ روس)
کریملن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد تہران نے روس سے کسی قسم کی فوجی مدد طلب نہیں کی۔ یہ بات کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں کو دی جانے والی روزانہ بریفنگ کے دوران بتائی، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
دیمتری پیسکوف نے کہا کہ اس معاملے میں ایران کی جانب سے روس کو کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ماسکو کو تہران کی طرف سے فوجی تعاون کے لیے کوئی باضابطہ پیغام نہیں ملا۔ واضح رہے کہ روس کو ایران کے قریبی شراکت داروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے نے حال ہی میں ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک دانستہ، پہلے سے منصوبہ بند اور بلا اشتعال مسلح جارحیت قرار دیا ہے۔

روس اور ایران نے 2025 میں ایک اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون کی شقیں شامل ہیں۔ تاہم اس معاہدے میں باہمی دفاع کی ذمہ داری شامل نہیں ہے، جیسا کہ روس نے شمالی کوریا کے ساتھ اپنے سکیورٹی معاہدے میں طے کیا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک “سنگدلانہ قتل” قرار دیا تھا، تاہم انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے بارے میں تاحال عوامی سطح پر کوئی تفصیلی تبصرہ نہیں کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں روس کا ردعمل زیادہ تر بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بیانات تک محدود رہ سکتا ہے۔ دیمتری پیسکوف نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف واضح اور سب کے سامنے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع روس میں پیٹرول کی قیمتوں کو متاثر نہیں کرنا چاہیے، جبکہ ملک کی اینٹی مونوپولی اتھارٹیز ایندھن کی مارکیٹ کی نگرانی کر رہی ہیں۔