ماسکو (اشتیاق ہمدانی)
روس نے ماسکو میں پائیدار توانائی کی ترقی کے مرکز کے قیام سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ساتھ کیا گیا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ مرکز یونیسکو کی سرپرستی میں قائم کیا جانا تھا، تاہم روس اب اس منصوبے سے باضابطہ طور پر دستبردار ہو رہا ہے۔
سرکاری معلومات کے مطابق یہ معاہدہ ماسکو میں ایک ایسے بین الاقوامی مرکز کے قیام کے لیے کیا گیا تھا جس کا مقصد پائیدار توانائی، توانائی کی مؤثر استعمال کی ٹیکنالوجیز اور اس شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اس مرکز کے ذریعے مختلف ممالک کے ماہرین اور اداروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کا منصوبہ تھا تاکہ توانائی کے شعبے میں تحقیق، تجربات اور جدید حلوں پر مشترکہ کام کیا جا سکے۔
روس کے معاہدے سے نکلنے کے فیصلے کے بعد اس منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے توانائی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ ایک عالمی بین الاقوامی تنظیم ہے جس کا قیام 1945 میں دوسری عالمی جنگ کے بعد عمل میں آیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد دنیا میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنا، ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور عالمی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کو ممکن بنانا ہے۔ روس کے اس حالیہ فیصلے کو عالمی اداروں کے ساتھ اس کے تعلقات اور توانائی کے شعبے میں اس کی پالیسیوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔