ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مقصد کے لیے اتحادی ممالک سے مزید فوجی مدد کا مطالبہ کیا تھا۔ برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق لندن کے اس فیصلے سے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی جانب سے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر نے اس بات پر بھی ناراضی کا اظہار کیا تھا کہ برطانیہ نے امریکہ کو ایران کے خلاف ممکنہ ابتدائی حملے کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ وہ ممالک جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس اہم سمندری گزرگاہ میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانے میں حصہ لینا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے برطانیہ، چین، جنوبی کوریا، فرانس اور جاپان کا ذکر بھی کیا تھا۔ دوسری جانب دو مارچ کو ایران کی پاسداران انقلاب کے میجر جنرل ابراہیم جباری نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کی مجموعی تیل برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ اسی اہم سمندری راستے سے گزرتا ہے۔
پانچ مارچ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز باضابطہ طور پر بند نہیں ہے، تاہم دونوں جانب سے حملوں کے خدشات کے باعث جہاز اور تیل بردار ٹینکر اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔