امریکہ نے ہتھیار یوکرین کے بجائے اپنی فوج کے لیے رکھنے کا فیصلہ کیا، پیٹ ہیگستھ

Pete Hegseth Pete Hegseth

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکہ کے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ پینٹاگون اب اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کو ترجیح دے رہا ہے اور اس مقصد کے لیے یوکرین کو اسلحہ بھیجنے کے بجائے امریکی فوج کی ضروریات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے حالیہ مسائل کا ذمہ دار سابق امریکی انتظامیہ کو قرار دیا۔

پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کے روز میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی فضائیہ کے جنرل ڈین کین، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین، کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔ اس موقع پر ان سے پینٹاگون کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگی اخراجات کے لیے کانگریس سے تقریباً 200 ارب ڈالر کے فنڈ کی درخواست کے بارے میں سوال کیا گیا۔

وزیر جنگ نے تصدیق کی کہ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے اور امکان ظاہر کیا کہ یہ رقم اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جہاں تک 200 ارب ڈالر کی بات ہے تو یہ رقم بڑھ بھی سکتی ہے، کیونکہ دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اضافی فنڈنگ کی ضرورت اس لیے ہے تاکہ امریکی فوج کے اسلحہ ذخائر کو دوبارہ مکمل کیا جا سکے اور مستقبل میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے مناسب تیاری برقرار رکھی جا سکے۔ اس دوران انہوں نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں امریکی فوج کے ذخائر کم ہو گئے تھے کیونکہ اسلحہ اپنی فوج کے بجائے یوکرین کو فراہم کیا جا رہا تھا۔

پیٹ ہیگستھ کے مطابق جب بھی امریکی فوج کو کسی چیلنج کا سامنا ہوتا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ سامنے آتی ہے کہ ہتھیار یوکرین بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی مفاد میں یہی بہتر ہے کہ یہ اسلحہ اپنے ملک کی ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے۔

دوسری جانب یوکرین روس کے ساتھ جاری تنازع کے دوران مغربی ممالک سے مالی اور فوجی امداد کے لیے مسلسل مطالبات کرتا رہا ہے اور اکثر اپنے اتحادیوں پر ناکافی حمایت کا الزام بھی عائد کرتا رہا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں شامل ہونے کی بھی کوشش کی۔

زیلنسکی نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایران کے ممکنہ جوابی حملوں کے خلاف دفاع کے لیے یوکرین سے مدد طلب کی ہے اور اس کے بدلے یوکرینی انٹرسیپٹر ڈرونز کے عوض امریکی ساختہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل حاصل کرنے کی تجویز بھی دی تھی۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ جنگ میں یوکرین سے کسی قسم کی مدد طلب نہیں کی۔ انہوں نے یوکرینی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جس شخص کی مدد کی سب سے کم ضرورت ہے وہ زیلنسکی ہیں۔