ایران جنگ: امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے بھیجنے پر غور

US aircraft carrier US aircraft carrier

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کے ممکنہ اگلے مرحلے کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں اضافی امریکی فوجی تعینات کرنے کے آپشن پر غور کر رہی ہے۔ اس معاملے سے واقف ایک امریکی عہدیدار اور دیگر ذرائع کے مطابق یہ اقدام خطے میں جاری آپریشن کو مضبوط بنانے کے لیے زیرِ بحث ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کے خلاف جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس صورتحال میں اضافی فوجی تعیناتی صدر ٹرمپ کو فوجی کارروائیوں میں توسیع کے حوالے سے مزید اختیارات فراہم کر سکتی ہے۔ زیرِ غور منصوبوں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنا بھی شامل ہے، جسے بنیادی طور پر فضائی اور بحری افواج کے ذریعے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

کچھ ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی بھی ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیرِ غور ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس بارے میں تفصیلات خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔ اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خارگ جزیرے پر بھی زمینی افواج بھیجنے کے امکان پر غور کر رہی ہے۔ خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں سے تقریباً 90 فیصد ایرانی تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ بعض امریکی حکام کے مطابق ایسی کارروائی انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ ایران کے پاس اس جزیرے کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ امریکہ 13 مارچ کو اس جزیرے پر واقع فوجی اہداف پر حملے بھی کر چکا ہے اور صدر ٹرمپ ایران کے اہم تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ تاہم فوجی ماہرین کے مطابق ایران کی معیشت میں خارگ جزیرے کی اہمیت کے پیش نظر اسے تباہ کرنے کے بجائے اس پر کنٹرول حاصل کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی سمجھا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے بھی امریکی افواج کی تعیناتی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے یورینیم ذخائر کو محفوظ بنانا ایک پیچیدہ اور خطرناک مشن ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ امریکی خصوصی فورسز کے لیے بھی۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق فی الحال ایران میں کسی بھی مقام پر امریکی زمینی افواج بھیجنے کا کوئی فوری فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم صدر ٹرمپ تمام ممکنہ آپشنز کو کھلا رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کی توجہ ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے اہداف حاصل کرنے پر مرکوز ہے جن میں ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو ختم کرنا، اس کی بحری طاقت کو کمزور کرنا، خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کے اثر کو روکنا اور یہ یقینی بنانا شامل ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ صدر ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ فی الحال کہیں بھی مزید فوجی تعینات نہیں کر رہے، تاہم اگر ایسا فیصلہ کیا گیا تو وہ اس کی تفصیلات میڈیا کو نہیں بتائیں گے۔ دوسری جانب پینٹاگون نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ادھر امریکی فوج ایران کی بحریہ، میزائل اور ڈرون ذخائر اور دفاعی صنعت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک امریکہ ایران کے خلاف 7800 سے زائد حملے کر چکا ہے اور ان کارروائیوں میں ایران کے 120 سے زیادہ بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا جا چکا ہے۔