ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ برسلز میں یورپی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی زمینی کارروائیاں اور بمباری نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ لبنان اور اسرائیل دونوں کی طویل المدتی سلامتی کے مفادات کے بھی خلاف ہیں۔
فرانسیسی صدر نے لبنان میں قائم مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لے گی۔ میکرون کا کہنا تھا کہ کسی تیسرے فریق کے لیے طاقت کے ذریعے حزب اللہ کے مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں ہے۔
میکرون نے کہا کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی اور اس کے ہتھیاروں کے خاتمے کا معاملہ کسی بیرونی طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس حوالے سے صرف لبنانی حکام کو ہی قانونی اختیار حاصل ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل نے ماضی میں بھی لبنان میں اسی نوعیت کی کارروائیاں کی ہیں لیکن ان سے کبھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔
فرانسیسی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی مہم میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی زمینی کارروائیاں کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 880 سے زائد افراد ہلاک جبکہ دو ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ رہائشی علاقے، اقوام متحدہ کے امن مشن کی ایک چوکی اور جنوبی شہر نباطیہ میں واقع روسی ثقافتی مرکز بھی بنے ہیں۔
ادھر جمعرات کے روز آر ٹی کے نامہ نگار اسٹیو سوینی اور ان کے کیمرہ مین علی رضا سبیتی بھی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب دونوں صحافی واضح طور پر پریس کی نشاندہی والی وردی پہنے ہوئے اپنی رپورٹنگ کر رہے تھے۔
روس نے اس واقعے پر اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ پریس کے نشانات والے صحافیوں پر حملہ حادثاتی قرار نہیں دیا جا سکتا، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ میں دو سو سے زیادہ صحافی مارے جا چکے ہیں۔