ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بین الاقوامی فضائی نقل و حمل کے ادارے کے سربراہ ولی والش نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتا ہوا تنازع عالمی فضائی صنعت پر منفی اثرات مرتب کرے گا اور اس بحران میں کسی کو بھی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جاری کشیدگی کے باعث ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ولی والش نے برسلز میں ایک ایوی ایشن تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی خطے میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے باعث عالمی فضائی صنعت میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کے سبب مشرقِ وسطیٰ کے مصروف فضائی مراکز کے لیے پروازوں کی آمدورفت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں کوئی بھی فریق فائدہ مند پوزیشن میں نہیں ہوگا کیونکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تیار ہونے والا جیٹ فیول شمالی امریکا اور ایشیا سمیت کئی خطوں کو فراہم کیا جاتا ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ کے عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔
ولی والش نے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ فی الحال عالمی سطح پر فضائی سفر کی طلب مضبوط ہے، تاہم اگر تنازع طویل ہو گیا اور جیٹ فیول کی فراہمی میں کمی پیدا ہوئی تو فضائی کمپنیاں اپنی پروازوں کی گنجائش کم کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود فضائی کمپنیاں منصوبے کے مطابق زیادہ ایندھن بچانے والے جدید طیارے حاصل کر رہی ہیں اور فی الحال کسی کمپنی کی جانب سے طیاروں کی فراہمی مؤخر کرنے یا رفتار کم کرنے کی اطلاعات نہیں ہیں۔
ولی والش کے مطابق اگر بدترین صورتحال پیدا ہوئی اور تنازع طویل عرصے تک جاری رہا تو فضائی صنعت کو اپنی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنا پڑے گا۔ اس صورت میں صنعت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اپنی گنجائش کو کس طرح تقسیم کرے اور ایندھن کی ممکنہ قلت کے خطرات سے خود کو کیسے محفوظ رکھے۔