ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جب ایران نے اسرائیل کے جنوبی شہر دیمونا اور اس کے قریبی شہر عراد پر میزائل حملے کیے۔ اسرائیلی امدادی اداروں کے مطابق ان حملوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دیمونا وہ شہر ہے جہاں اسرائیل کی مرکزی جوہری تنصیب واقع ہے۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق عراد شہر میں کم از کم 88 افراد زخمی ہوئے جن میں 10 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حملوں کے نتیجے میں شہر کے مرکزی علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب دیمونا میں 39 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک دس سالہ بچہ بھی شامل ہے جسے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے ان حملوں کو ایران کے نطنز جوہری افزودگی مرکز پر ہونے والے مبینہ حملے کا جواب قرار دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسی روز نطنز کے جوہری مرکز کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے اہم مقامات پر میزائل داغے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حملوں کے بعد خطاب کرتے ہوئے اس صورتحال کو اسرائیل کے لیے ایک مشکل شام قرار دیا اور کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 28 فروری سے جاری امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں 1500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 200 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ حملوں کے دوران فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا تھا، تاہم بعض میزائلوں کو روکا نہیں جا سکا۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق دیمونا اور عراد دونوں مقامات پر بیلسٹک میزائل براہِ راست ہدف پر لگے جن کے وارہیڈز کا وزن سینکڑوں کلوگرام بتایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ دیمونا میں واقع شمعون پیریز نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور علاقے میں غیر معمولی تابکاری کی سطح بھی ریکارڈ نہیں کی گئی۔ ادارے کے سربراہ رافائل گروسی نے زور دیا کہ جوہری تنصیبات کے قریب زیادہ سے زیادہ فوجی احتیاط برتی جانی چاہیے۔
ادھر مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے الجزیرہ کی نمائندہ نور عودہ کے مطابق دیمونا میں تین مختلف مقامات پر میزائل گرنے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ایک تین منزلہ عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی جبکہ متعدد مقامات پر آگ بھی بھڑک اٹھی۔ اسرائیلی حکام نے رامات نیگیو ریجنل کونسل کے زیر انتظام اسکولوں کو اگلے روز کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تہران میں ملک اشتر یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مرکز کو نشانہ بنایا، جسے اس کے مطابق جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے پرزہ جات کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ دیمونا کئی دہائیوں سے اسرائیل کے جوہری پروگرام کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ تحقیقی مرکز 1958 میں فرانسیسی تعاون سے خفیہ طور پر تعمیر کیا گیا تھا اور اسی کے بعد سے اسے اسرائیل کے جوہری پروگرام کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔