ایران کے حملوں کے بعد سعودی عرب کا ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

Saudi foreign minister Faisal bin Farhan Al Saud Saudi foreign minister Faisal bin Farhan Al Saud

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

سعودی عرب نے ایران کے مبینہ حملوں کے بعد کئی ایرانی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری سے ایران پر جاری حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں ایران کے ان اقدامات کی مذمت کی جنہیں اس نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے والے بار بار کے حملے قرار دیا۔ بیان میں تہران پر بین الاقوامی قوانین اور ہمسائیگی کے اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ سعودی اخبار کے مطابق حکومت نے ایران کے فوجی اتاشی، معاون فوجی اتاشی اور سفارت خانے کے مزید تین اہلکاروں کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر سعودی عرب چھوڑ دیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنی خودمختاری، سلامتی، فضائی حدود، شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ بیان میں یہ بھی خبردار کیا گیا کہ حالیہ صورتحال دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

یہ اعلان قطر کے اسی نوعیت کے اقدام کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں ایرانی فوجی اور سکیورٹی اتاشیوں کو ان کے عملے سمیت ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ قطر نے یہ فیصلہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں مائع قدرتی گیس کی ایک اہم تنصیب پر حملے کے بعد کیا، جو دنیا کے بڑے گیس پروسیسنگ اور برآمدی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے راس لفان کو اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں نشانہ بنایا تھا، جن میں جنوبی پارس گیس فیلڈ کو بھی ہدف بنایا گیا تھا۔ خلیجی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے سعودی عرب کے شہر الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا ہے، جہاں امریکی فوجی موجود ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو اپنے دفاع میں نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں کے دوران امریکہ نے ایران کے خارگ جزیرے پر بمباری کے لیے متحدہ عرب امارات کی سرزمین استعمال کی۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جب تک عرب ممالک امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتے رہیں گے، جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خلیجی ممالک سے معذرت بھی کی تھی کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں بعض شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔