ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے اس نے مجموعی طور پر 2 ملین ڈالر فیس وصول کی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس فیس کے ذریعے ملک اپنی طاقت اور علاقائی کنٹرول کو واضح طور پر ظاہر کر رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علاؤالدین نے کہا کہ ایران نے 47 سال بعد اس اہم آبی گزرگاہ پر خودمختاری کا نیا تصور قائم کیا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر تیل بردار جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز تقریباً بند ہے، جبکہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کا مکمل کنٹرول موجود ہے۔ فوجی ترجمان نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ایران کی جانب سے گزرگاہ پر مکمل نگرانی اور حفاظت موجود ہے۔