ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
مشرق وسطیٰ میں حالیہ ایران جنگ کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے متعدد ایف-15 لڑاکا طیارے گرائے جانے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ یہ واقعات امریکی فضائی طاقت کی حقیقی صلاحیت اور اس کی کمزوریوں کو نمایاں کر رہے ہیں۔ ایف-15 ایگل کو 1970 کی دہائی سے امریکی فضائی برتری کا ستون سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کی رفتار، چست و چالاک اور جدید ایوونکس کی وجہ سے یہ طیارہ مختلف تنازعات میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تاہم ایران کی جدید فضائی دفاعی نظاموں نے اس کی ناقابل تسخیر ہونے کی افسانوی حیثیت کو چیلنج کر دیا ہے۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں روسی ساختہ ایس-300 اور اپنے مقامی طور پر تیار کردہ باوار-373 جیسے جدید سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں پر مشتمل مربوط فضائی دفاعی نظام تیار کیا ہے۔ ان نظاموں نے عراق اور شام کے فضائی علاقوں میں امریکی ایف-15 طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
2019 میں ایک ایف-15 ای سٹرائیک ایگل کو ایرانی سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں نے مار گرایا تھا۔ 2021 اور 2022 کے دوران بھی کئی ایف-15 طیاروں کو نگرانی اور گشت کے مشنوں کے دوران نشانہ بنایا گیا یا مار گرایا گیا۔ ماہرین کے مطابق ایف-15 طیاروں کی کمزوریاں درج ذیل عوامل کی وجہ سے ہیں:
ایران کے جدید سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم
الیکٹرانک جنگ (EW) کی جدید تکنیکوں کا استعمال جو ریڈار اور ٹارگٹنگ سسٹم کو متاثر کرتے ہیں
مربوط اور کثیر الطبقاتی فضائی دفاعی نظام
پیچیدہ اور بھاری دفاع والے علاقوں میں آپریشنل خطرات
ان واقعات کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کو اپنی حکمت عملیوں کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک جنگ، سٹیلتھ ٹیکنالوجی اور دشمن کے دفاعی نظام کو دبانے (SEAD) کے مشنز پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔
یہ واقعات نہ صرف امریکی فضائی طاقت کی حدود کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ علاقائی سلامتی کی صورتحال اور مستقبل کی فوجی منصوبہ بندی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔