امریکہ نے ایران کے اسکول پر غیر آزمودہ ہتھیار استعمال کیا، نیویارک ٹائمز

Hezbollah attack on Israel Hezbollah attack on Israel

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکہ نے جنوبی ایرانی شہر لامرد میں ایک اسکول اور اسپورٹس ہال پر بالسٹک میزائل حملہ کیا جو پہلے کبھی جنگی میدان میں آزمایا نہیں گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز نے اتوار کو فوٹیج کے اپنے تجزیے اور ہتھیاروں کے ماہرین کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔ یہ حملہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے پہلے حملوں کی لہر کے دوران کیا گیا۔ اسی دن امریکی میزائل نے ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک پرائمری اسکول کو تباہ کر دیا تھا جس میں 175 افراد، جن میں زیادہ تر بچے تھے، ہلاک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق لامرد میں اس حملے میں کم از کم 21 افراد جاں بحق ہوئے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق حملے سے ہونے والا نقصان Precision Strike Missile (PrSM) سے مطابقت رکھتا ہے، جو اپنے ہدف کے اوپر پھٹتا ہے اور چھوٹے ٹنگسٹن کے دانے پھینکتا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق یہ ہتھیار صرف پچھلے سال پروٹو ٹائپ مرحلے سے مکمل ہوا تھا۔
میناب کی طرح لامرد میں بھی نشانہ بنایا گیا اسکول اور اسپورٹس ہال اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی سہولت کے بالکل قریب واقع تھا۔ تاہم اخبار نے بتایا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اسکول اور ہال آئی آر جی سی سائٹ سے کم از کم 15 سال سے دیوار سے الگ ہیں اور گوگل میپس سمیت مقبول آن لائن نقشوں پر انہیں سولین سہولتوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے کہا کہ چونکہ یہ میزائل نیا ہے، اس لیے یہ جانچنا مشکل ہے کہ PrSM حملے “جان بوجھ کر” کیے گئے یا ڈیزائن کی خرابی اور غلط انٹیلی جنس کی وجہ سے ہوئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں ایک ہزار سے زائد عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میناب میں اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم پینٹاگون نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔