اشتیاق ہمدانی |
ہٹیاں بالا میں 50 کروڑ روپے سے زائد لاگت سے تعمیر کی گئی گریٹر واٹر سپلائی اسکیم ایک بڑے عوامی اور انتظامی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سرکاری دعوؤں کے برعکس دستیاب معلومات، زمینی حقائق اور متاثرہ شہریوں کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ اپنی بنیادی ذمہ داری—صاف پانی کی فراہمی—پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اور کئی علاقوں میں عوام آلودہ، بدبودار اور غیر معیاری پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
سرکاری ترقیاتی ریکارڈ کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 50 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی، جس میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، پائپ لائن نیٹ ورک اور مختلف ریزروائرز کی تعمیر شامل تھی۔ تاہم زمینی سطح پر سامنے آنے والی صورتحال اس بھاری سرمایہ کاری کے برعکس نظر آتی ہے، جہاں نہ صرف پانی کی فراہمی غیر مستقل ہے بلکہ اس کا معیار بھی شدید سوالات کی زد میں ہے۔
تحقیقی جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ منصوبہ اپنے اصل ڈیزائن اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل نہیں کیا گیا۔ مقامی ذرائع اور تکنیکی افراد کے مطابق تعمیراتی مراحل میں معیار پر سمجھوتہ کیا گیا، ناقص میٹریل استعمال کیا گیا اور کئی اہم اجزاء کو منصوبہ بندی کے مطابق مکمل نہیں کیا گیا، جس کے باعث سپلائی سسٹم کمزور ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی بارش کے بعد ہی پانی کی فراہمی متاثر ہو جاتی ہے اور کئی علاقوں میں نظام مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے۔
واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، جو اس منصوبے کا بنیادی جزو تھا، عملی طور پر غیر فعال بتایا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق پلانٹ کی دیکھ بھال، آپریشن اور نگرانی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، جس کے نتیجے میں پانی کی فلٹریشن کا عمل متاثر ہو کر شہریوں تک غیر معیاری پانی پہنچ رہا ہے۔ اس صورتحال نے صحت عامہ کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پانی کے معیار کی جانچ کے حوالے سے بھی تشویشناک خلا موجود ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق پانی کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ کا کوئی مؤثر اور مسلسل نظام فعال نہیں، جبکہ عوامی سطح پر اس حوالے سے معلومات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ عمل مہنگا اور وسائل طلب ہونے کے باعث مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا، جس کے باعث پانی کے معیار پر کوئی مؤثر نگرانی نہیں ہو سکی۔
منصوبے کے اندر ممکنہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف ذرائع اور مقامی حلقوں کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے دوران نہ صرف تکنیکی معیار پر سمجھوتہ کیا گیا بلکہ فنڈز کے استعمال، ٹھیکوں کی تقسیم اور نگرانی کے نظام میں بھی شفافیت کے تقاضے مکمل طور پر پورے نہیں کیے گئے۔ بعض حلقوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور وسائل کے غلط استعمال کے باعث اس کی مجموعی کارکردگی متاثر ہوئی۔

ہٹیاں بالا میں دو دن بعد صرف پندرہ منٹ کے لیے دیے جانے والے پانی کی اصل حالت—کروڑوں کی اسکیم کے باوجود شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور۔
نگرانی اور آڈٹ کے نظام کی کمزوری بھی اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔ مقامی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ منصوبے کی الاٹمنٹ اور عملدرآمد میں پسند و ناپسند کا عنصر غالب رہا، جس کے باعث مؤثر نگرانی ممکن نہ ہو سکی اور ممکنہ بے ضابطگیاں بروقت سامنے نہیں آ سکیں۔
اسی تناظر میں آزاد کشمیر کے احتسابی نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران احتسابی عمل مؤثر نظر نہیں آتا، جبکہ احتسابی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات موجود ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق اتنے بڑے عوامی نوعیت کے منصوبے میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کے باوجود متعلقہ اداروں کی خاموشی باعث تشویش ہے۔
اسی سلسلے میں حلقہ کے ایم ایل اے اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کے کردار کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس منصوبے میں ہونے والی مبینہ کرپشن میں شامل نہیں تھے تو بطور وزیراعظم یا بعد ازاں بطور منتخب نمائندہ انہوں نے اس معاملے پر نوٹس کیوں نہیں لیا؟ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایک منتخب نمائندے کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کے بنیادی حقوق، خصوصاً صاف پانی جیسے اہم مسئلے، کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے؟
اشتیاق ہمدانی کے مطابق انہوں نے گزشتہ سال جولائی میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق سے ملاقات کے دوران اس مسئلے کی نشاندہی کی تھی، جس پر فوری نوٹس لیا گیا اور عارضی طور پر پانی کی فراہمی میں بہتری آئی، تاہم بعد ازاں صورتحال دوبارہ خراب ہو گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلے کا مستقل حل تاحال نہیں نکالا جا سکا۔
ماہرین صحت کے مطابق آلودہ پانی کا مسلسل استعمال ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور دیگر خطرناک بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے، جس سے یہ مسئلہ صرف ایک سہولت نہیں بلکہ صحت عامہ کا سنگین بحران بن چکا ہے۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور خواتین کے لیے اس کے اثرات زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔
اس حوالے سے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ضلعی انتظامیہ، احتسابی اداروں اور ایم ایل اے راجہ فاروق حیدر خان سے مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اشاعت تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آ سکا۔ مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے شامل کیا جائے گا۔
مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کا فوری، شفاف اور آزادانہ تکنیکی و مالیاتی آڈٹ کروایا جائے، پانی کے معیار کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ شروع کی جائے، ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور متاثرہ آبادی کو فوری طور پر صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس بنیادی مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو احتجاجی ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہو گی