اسلام آباد مذاکرات: کیا ایران اور امریکا کے درمیان پیش رفت ممکن ہے؟

US and Iran US and Iran

اسلام آباد (صداۓ روس)

اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان ایک ثالث کے طور پر ایسا ماحول فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں دونوں فریق اعتماد کے ساتھ بات چیت کر سکیں۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات اسے اس عمل میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات، جن میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں اور خطے میں اثر و رسوخ شامل ہیں، مذاکرات کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ایران پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے جبکہ امریکا جوہری سرگرمیوں پر قدغن کو اپنی ترجیح قرار دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان مذاکرات کے لیے سازگار ماحول تو فراہم کر سکتا ہے، تاہم اصل پیش رفت کا انحصار دونوں ممالک کی لچک اور اعتماد سازی کے اقدامات پر ہوگا۔

عالمی سطح پر موجود کشیدہ صورتحال بھی ان مذاکرات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایک جانب امن کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں تو دوسری جانب کسی بھی غیر متوقع پیش رفت سے یہ عمل متاثر بھی ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور درمیانی راستہ اختیار کریں تو یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ ایک اور ناکام سفارتی کوشش بن سکتے ہیں۔