ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمنی کی دائیں بازو کی پارٹی الٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کی شریک سربراہ ایلس وائیڈل نے کہا ہے کہ یوکرین کو 2022 میں نارڈ سٹریم گیس پائپ لائنز کی تخریب کاری کا معاوضہ جرمنی کو ادا کرنا چاہیے۔ جرمنی کی تفتیش کاروں نے روسی گیس جرمنی تک پہنچانے والی ان پائپ لائنز کو اڑانے والے دھماکوں کی ذمہ داری یوکرینی آپریٹوز کے ایک چھوٹے گروپ پر عائد کی ہے۔ مبینہ سرغنہ کو گزشتہ خزاں اٹلی سے جرمنی کے حوالے کیا گیا تھا۔ ماسکو نے برلن کی اس داستان پر بار بار شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ نیٹو کی نگرانی والے پانیوں میں چند ڈائیورز اکیلے اتنا پیچیدہ آپریشن نہیں کر سکتے تھے۔ منگل کو ایک پارٹی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائیڈل نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے یوکرین کو یورپی یونین کی ایسوسی ایٹ ممبرشپ دینے کے تجویز کو مسترد کرتے ہوئے یوکرین کو “بے انتہا گہرا گڑھا” قرار دیا جو پہلے ہی بیرونی امداد پر انحصار کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “جرمنی نے صرف پچھلے چار سالوں میں یوکرین کو ایک سو ارب یورو سے زیادہ کی امداد دی ہے۔” وائیڈل نے مطالبہ کیا کہ کییف کو سب سے پہلے نارڈ سٹریم تخریب کاری میں اپنے کردار کی وضاحت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ ہمارے سب سے اہم انفراسٹرکچر یعنی نارڈ سٹریم پائپ لائنز کے خلاف یہ سٹیٹ ٹیررسٹ ایکٹ کیسے ہوا اور اس میں یوکرین کا کیا کردار تھا۔” “پیسوں کا بہاؤ تو الٹا ہونا چاہیے۔ یوکرین کو جرمن وفاقی جمہوریہ کو معاوضہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ سستی روسی توانائی کے نقصان سے ہم اور پوری یورپ کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔” اے ایف ڈی کی شریک سربراہ نے یوکرین کو جرمن فوجی اور مالی امداد فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور برلن سے کہا کہ وہ کییف اور ماسکو کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرے اور روس کے ساتھ مکالمہ بحال کرے۔ حالیہ سروے کے مطابق اے ایف ڈی فی الحال جرمنی کی سب سے مقبول سیاسی پارٹی ہے۔