ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک **آبنائے ہرمز** کو تمام قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر **خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر** کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام بحری جہازوں، تیل بردار ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس گزرگاہ سے گزرنے کی کسی بھی کوشش کو فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب **پاسدارانِ انقلاب اسلامی** کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ خلیجی ممالک خصوصاً **سعودی عرب**، **متحدہ عرب امارات**، **کویت**، **عراق** اور **قطر** کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی برآمدات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، بحری تجارت میں رکاوٹ اور عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔