سرب صدر ووچیچ کا مستعفی ہو کر وزیرِاعظم بننے پر غور

Serbia’s President Aleksandar Vucic Serbia’s President Aleksandar Vucic

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

سربیا کے صدر Aleksandar Vučić الیگزینڈر ووچیچ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں صدارتی عہدے سے استعفیٰ دے کر وزیرِ اعظم کے منصب کے لیے انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ ریڈیو بلغراد کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ووچیچ نے کہا کہ وہ اپنے استعفے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور مناسب وقت آنے پر اس بارے میں عوام کو آگاہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے صدارتی رہائش گاہ سے اپنی کتابیں سمیٹنا بھی شروع کر دی ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے الگ ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سربیا کے صدر نے کہا کہ ممکن ہے وہ تین یا چار ماہ سے بھی پہلے اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ ان کے مطابق وہ تقریباً روزانہ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ آیا انہیں وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے انتخابی میدان میں اترنا چاہیے۔

واضح رہے کہ ووچیچ پہلی مرتبہ 2017 میں سربیا کے صدر منتخب ہوئے تھے جبکہ 2022 میں دوبارہ اس منصب پر فائز ہوئے۔ ان کی موجودہ صدارتی مدت 2027 میں مکمل ہونی ہے۔ندوسری جانب سربیا کی پارلیمنٹ کی اسپیکر Ana Brnabić آنا برنابچ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ حکمران جماعت، Serbian Progressive Party سربین پروگریسو پارٹی، آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ووچیچ کو وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر نامزد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ صدر ووچیچ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ملک میں قبل از وقت پارلیمانی انتخابات رواں سال خزاں میں، ستمبر کے اواخر سے اکتوبر کے وسط کے درمیان منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ووچیچ وزارتِ عظمیٰ کے لیے انتخاب لڑتے ہیں تو یہ سربیا کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔