کراچی (صداۓ روس)
کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے، جس کے پیشِ نظر طبی ماہرین نے شہریوں کو صحت کے تحفظ کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق درجۂ حرارت میں اضافے کے ساتھ مختلف انفیکشنز، معدے کی بیماریوں اور جلدی مسائل کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں غیر معیاری اور کھلے عام فروخت ہونے والے کھانے اور مشروبات کے استعمال سے گریز کیا جائے، کیونکہ یہ معدے کی خرابی، فوڈ پوائزننگ اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ صاف پانی پینے، پانی ابال کر استعمال کرنے اور جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین نے مزید مشورہ دیا ہے کہ ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنے جائیں، دھوپ میں نکلتے وقت سر کو ٹوپی یا کپڑے سے ڈھانپا جائے اور غیر ضروری طور پر دوپہر کے اوقات میں باہر جانے سے اجتناب کیا جائے۔ ان کے مطابق جلد کو صاف اور خشک رکھنے سے دانوں، خارش اور الرجی جیسی شکایات سے بچاؤ ممکن ہے۔
دوسری جانب Pakistan Meteorological Department محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں 12 جون تک درمیانی سے شدید گرمی کی لہر جاری رہنے کا امکان ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق کراچی میں درجۂ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جبکہ آج پارہ 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی توقع ہے۔
محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر کا موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ شہر میں جنوب مغرب سے تقریباً 22 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سمندری ہوائیں چل رہی ہیں جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 79 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی کا کم سے کم درجۂ حرارت 30.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین نے شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو گرمی کے دوران اضافی احتیاط برتنے اور ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔