انسانی غفلت سے پاکستان کے جنگلات خطرے میں، آگ لگنے کے واقعات

Fire Fire

اسلام آباد (صداۓ روس)

پاکستان کے مختلف جنگلاتی علاقوں میں ہر سال گرمیوں کے موسم میں آگ لگنے کے واقعات سامنے آتے ہیں، جن میں سے بیشتر کی وجہ انسانی غفلت قرار دی جاتی ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ جنگلات میں پھینکی گئی جلتی ہوئی سگریٹ، کیمپ فائر کو مکمل طور پر نہ بجھانا، شیشے کی بوتلیں چھوڑ دینا یا خشک گھاس میں معمولی چنگاری بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق کوہ نمک، گلیات، مری، نتھیا گلی، تھنڈیانی، کاغان، ناران، چترال اور دیگر پہاڑی و میدانی جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہزاروں جنگلی جانوروں، پرندوں اور نایاب انواع کا گھر ہیں۔ جنگلات میں لگنے والی آگ نہ صرف درختوں کو تباہ کرتی ہے بلکہ بے شمار جانور، پرندے، رینگنے والے جاندار اور ان کے بچے بھی زندہ جل کر ہلاک ہو جاتے ہیں یا اپنا مسکن کھو بیٹھتے ہیں۔ ماہرین نے شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ جنگلاتی علاقوں میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی ایسی سرگرمی سے گریز کریں جو آگ لگنے کا باعث بن سکتی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک لمحے کی لاپرواہی کئی دہائیوں میں پروان چڑھنے والے جنگلات اور ان میں آباد حیات کو تباہ کر سکتی ہے۔ ماحولیاتی حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگلات پاکستان کا قیمتی قدرتی سرمایہ ہیں اور ان کا تحفظ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کہیں جنگل میں آگ یا دھواں نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ کوہ نمک اور دیگر پہاڑی و میدانی تمام جنگلات کا بہت خیال رکھیے، آپ کی ایک چھوٹی سی غلطی ان جنگلات میں بسنے والے بے شمار جانوروں، پرندوں اور ان کے بچوں کے لیے ایک اذیت ناک موت کا سبب بن سکتی ہے۔