ایران آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے، امریکی وزیرِ خارجہ کا انتباہ

Marco Rubio Marco Rubio

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے۔ آسیان اجلاس کے لیے فلپائن روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھاتا رہے گا لیکن دیگر ممالک کو بھی آگے آ کر بوجھ بانٹنا ہو گا، چاہے وہ عسکری ساز و سامان کی فراہمی ہو یا مالی معاونت۔

مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے امریکا سفارت کاری کے لیے ہمیشہ تیار ہے لیکن سفارت کاری حقیقی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران کسی مفاہمت کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو وہ معاہدہ مؤثر نہیں رہ سکتا۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ کئی بار مذاکرات کی کوشش کی اور یہ کوشش جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب امریکی فوج نے ایران پر آج مسلسل نویں رات بھی حملے کیے ہیں۔ ایران کے شہروں تبریز، چابہار، سرک، ہرمزگان، بوشہر اور کنارک میں حملوں کی اطلاع ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں ایران کے ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت کو منظم کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے ایک آزاد بین الاقوامی گزرگاہ قرار دیتے ہیں۔