ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت میں نوجوانوں کی ایک تحریک جس نے خود کو ’کاکروچ جنٹا پارٹی‘ (سی جے پی) کا نام دیا ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس تحریک کا آغاز اگرچہ ایک مذاق کی شکل میں ہوا، لیکن اس کے پیچھے بھارتی نوجوانوں کی گہری مایوسی اور غصہ ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں امتحانی پرچوں کا بار بار رساو اور تعلیمی نظام میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی ہے. اس تحریک کا آغاز مئی 2026 میں اس وقت ہوا جب بھارتی چیف جسٹس نے اپنے ایک بیان میں نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ سے کیا۔ اس پر ایک نوجوان ابھیجیت ڈپکے نے طنزیہ انداز میں سوشل میڈیا پر لکھا: “کیا ہو اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں؟” یہ پوسٹ وائرل ہو گئی اور چند ہی دنوں میں اس تحریک کے انسٹاگرام فالوورز 22 ملین سے تجاوز کر گئے، جو بھارتی حکمران جماعت کے مداحوں سے دوگنا ہے۔
بھارت میں ہر سال لاکھوں نوجوبان میڈیکل اور انجینئرنگ کے امتحانات میں شرکت کرتے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ان امتحانات کے پرچوں کے رساو کے واقعات میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ مئی 2026 میں ملک کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ NEET-UG کے پرچے ٹیلیگرام پر لیک ہو گئے، جس کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے امتحان منسوخ کر کے 1.7 ملین طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے کا حکم دیا۔ اس واقعے نے نوجوانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ 18 سالہ سچن کمار، جنہوں نے ایک سال تک اس امتحان کی تیاری کی تھی، کا کہنا ہے کہ “اس نے میرا عزم توڑ دیا، طلبہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور کوئی پرواہ نہیں کرتا”۔ اس دوران ملک بھر میں ایک درجن سے زیادہ طلبہ نے خودکشی کی، جس کے بعد تعلیم وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبات تیز ہو گئے۔
حکومت نے ٹیلیگرام کو ملک میں عارضی طور پر بند کر دیا تاکہ پرچوں کے رساو کو روکا جا سکے، لیکن ناقدین نے اسے ’بینڈ ایڈ حل‘ قرار دیا۔ ٹیلیگرام کے بانی نے کہا کہ اس پابندی سے 150 ملین بھارتی صارفین متاثر ہوئے ہیں جبکہ اصل مجرم دوسرے پلیٹ فارمز پر منتقل ہو سکتے ہیں۔ کاکروچ تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے، جو حال ہی میں امریکا سے واپس آئے ہیں، نئی دہلی کے جنتر منتر میں دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ تک احتجاج جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔ دہلی پولیس نے پانی اور خوراک کی فراہمی روک کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے، لیکن مظاہرین اپنے موقف پر قائم ہیں۔ یہ تحریک محض ایک انٹرنیٹ مذاق سے نہیں بلکہ بھارتی نوجوانوں کی اس نسل کے غصے کا اظہار ہے جو 2014 سے مودی حکومت کے تحت ایک ایسے نظام میں پروان چڑھی ہے جہاں وہ اپنے مستقبل کو غیر یقینی اور غیر منصفانہ محسوس کرتی ہے۔