ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
پینٹاگون ایک نیوکلیئر حکمت عملی تیار کر رہا ہے جو روس یا چین کے ساتھ ممکنہ تنازع میں امریکی صدر کو نیوکلیئر اختیارات کی وسیع رینج فراہم کرے گی۔ این بی سی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس مجوزہ حکمت عملی میں علاقائی تنازعات میں طویل فاصلے کے اسٹریٹجک نیوکلیئر ہتھیاروں کے بجائے کم فاصلے کے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ یہ جائزہ ان ممکنہ منظرناموں کو حل کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جن میں روس یا چین کے علاقائی تنازع میں امریکی اتحادیوں پر حملہ کریں۔ پینٹاگون کی پالیسی سربراہ ایلبرج کولبی اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ جائزہ نیو اسٹارٹ معاہدے کے ختم ہونے کے تقریباً چھ ماہ بعد سامنے آیا ہے، جو امریکا اور روس کے اسٹریٹجک نیوکلیئر ہتھیاروں کو محدود کرنے والا آخری دو طرفہ معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے ختم ہونے کے بعد روس نے کہا کہ اس کا کوئی ارادہ نہیں کہ وہ پہلے قدم اٹھائے بشرطیکہ امریکا بھی یہی رویہ اختیار کرے۔
روسی صدر پوتن نے تجویز دی تھی کہ ماسکو اور واشنگٹن ایک نئے معاہدے پر بات چیت کے دوران ایک سال تک اس کی حدوں پر عمل جاری رکھیں، تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے چین کو شامل کرتے ہوئے ایک “بہتر” معاہدہ چاہا، جسے بیجنگ نے مسترد کر دیا.