جب توانائی خود ہدف بن جائے: پائپ لائنوں، ریفائنریوں اور بجلی کے نظام کی نئی جنگ


نورڈ اسٹریم سے روسی ریفائنریوں اور یوکرین کے پاور گرڈ تک، دنیا کو اب صرف توانائی پیدا کرنے نہیں بلکہ اسے محفوظ رکھنے کا بھی چیلنج درپیش ہے

اشتیاق ہمدانی

ایک وقت تھا جب عالمی توانائی سیاست کا بنیادی سوال یہ ہوا کرتا تھا کہ تیل کہاں ہے، قدرتی گیس کے بڑے ذخائر کس ملک کے پاس ہیں اور کون سی ریاست یومیہ کتنے ملین بیرل خام تیل پیدا کرتی ہے۔ آج یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا اور شاید زیادہ اہم سوال بھی کھڑا ہو چکا ہے: اگر تیل کا ذخیرہ موجود ہو مگر ریفائنری کام نہ کرے، گیس موجود ہو لیکن پائپ لائن متاثر ہو جائے، یا بجلی گھر پوری صلاحیت سے چل رہا ہو مگر transmission network ناکام ہو جائے تو اس توانائی کی عملی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟

گزشتہ چند برسوں کے واقعات نے دنیا کو یہ سمجھنے پر مجبور کیا ہے کہ جدید معیشت کا حساس ترین حصہ صرف زیرِ زمین موجود تیل اور گیس نہیں بلکہ وہ پورا نظام ہے جو توانائی کو زمین سے نکال کر ریفائنری، پائپ لائن، بندرگاہ، بجلی گھر اور بالآخر صارف کے گھر اور کارخانے تک پہنچاتا ہے۔ اسی لیے آج پائپ لائن، ریفائنری، LNG terminal، بجلی کا grid، substation، سمندری cable اور energy port محض صنعتی تنصیبات نہیں رہے بلکہ قومی سلامتی کے اثاثوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

اس نئی حقیقت کا ایک بڑا مظاہرہ ستمبر 2022 میں بحیرۂ بالٹک میں ہوا، جب Nord Stream 1 اور Nord Stream 2 گیس پائپ لائنوں کو شدید نقصان پہنچا۔ 29 ستمبر 2022 کو NATO نے اپنے سرکاری بیان میں کہا تھا کہ دستیاب معلومات اس نقصان کو دانستہ sabotage کی طرف اشارہ کرتی ہیں، تاہم ذمہ داری کے حتمی تعین کو باقاعدہ تحقیقات سے جوڑا گیا۔ یہ واقعہ صرف روس سے یورپ جانے والی گیس کی ترسیل کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس نے پوری دنیا کے سامنے یہ سوال رکھ دیا کہ اگر سمندر کی تہہ میں موجود اربوں ڈالر کی توانائی infrastructure محفوظ نہیں تو جدید دنیا کی دوسری critical energy installations کس حد تک محفوظ ہیں؟

Nord Stream واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فروری 2023 میں NATO نے critical undersea infrastructure کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی coordination cell قائم کیا۔ اس وقت بھی واضح کیا گیا کہ سمندر کے نیچے موجود pipelines اور communication cables جدید معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں اور ان کی حفاظت محض متعلقہ کمپنیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کا معاملہ بن چکی ہے۔

توانائی infrastructure کی یہ vulnerability صرف سمندر کی تہہ تک محدود نہیں رہی۔ روس–یوکرین تنازع کے دوران refineries، بجلی گھروں، transmission systems اور دیگر توانائی تنصیبات پر ہونے والے حملوں نے ایک نئی قسم کی جنگی حقیقت دنیا کے سامنے رکھی ہے۔ International Energy Agency کی اکتوبر 2025 کی Oil Market Report کے مطابق روسی energy infrastructure پر مسلسل حملوں کے نتیجے میں روس کی crude processing میں اندازاً پانچ لاکھ بیرل یومیہ کمی آئی۔ اس کے اثرات petroleum-product exports کے ساتھ اندرونِ ملک fuel supply تک بھی پہنچے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ خام تیل کا بڑا ذخیرہ ہونا اور صارف کو petrol یا diesel فراہم کرنا ایک ہی چیز نہیں۔ تیل کا کنواں براہِ راست گاڑی یا کارخانے کو fuel نہیں دیتا۔ اس کے لیے refinery ضروری ہے۔ اگر refinery کی processing capacity متاثر ہو جائے تو بڑے oil reserves رکھنے والا ملک بھی فوری طور پر fuel-supply pressure کا سامنا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں energy security کو صرف reserves اور production کے اعداد سے نہیں ناپا جا سکتا۔ refining، storage، transportation اور distribution بھی اسی equation کا لازمی حصہ ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2025 کے اختتام تک عالمی oil market مجموعی supply کے اعتبار سے کسی انتہائی قلت کا شکار نہیں تھی۔ International Energy Agency کی جنوری 2026 کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں عالمی oil supply تقریباً 107.4 ملین بیرل یومیہ تھی، جبکہ 2026 میں اسے مزید بڑھ کر 108.7 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی۔ اسی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران دنیا کے معلوم oil inventories میں تقریباً 433 ملین بیرل اضافہ بھی ہوا۔

بظاہر یہ اعداد ایک محفوظ عالمی توانائی منڈی کی تصویر پیش کرتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ دنیا کے پاس مجموعی طور پر تیل کی مناسب مقدار موجود ہو سکتی ہے، مگر اگر کسی مخصوص ملک کی refinery متاثر ہو جائے، اہم pipeline بند ہو جائے، بندرگاہ کی activity رک جائے یا transmission corridor کام نہ کرے تو مقامی اور علاقائی سطح پر توانائی کا بحران پھر بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، عالمی سطح پر وسائل کی فراوانی مقامی سطح پر توانائی تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتی۔

12 فروری 2026 کو جاری ہونے والی International Energy Agency کی Oil Market Report میں رواں سال عالمی تیل کی طلب میں تقریباً 850 ہزار بیرل یومیہ اضافے کی توقع ظاہر کی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ اس اضافے کا بڑا حصہ non-OECD economies سے آنے کی پیش گوئی کی گئی۔ ترقی پذیر معیشتوں میں energy demand کے بڑھتے ہوئے رجحان کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں کسی بڑی refinery، pipeline یا transport route میں خلل کے اثرات اور زیادہ تیزی سے عالمی منڈی تک پہنچ سکتے ہیں۔

توانائی infrastructure کے خطرات کی سب سے حساس تصویر یوکرین میں نظر آتی ہے، جہاں قومی power grid کے مسائل جوہری تنصیبات کی safety سے بھی جڑ گئے ہیں۔ International Atomic Energy Agency کی 25 فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق 10 فروری کو Zaporizhzhya Nuclear Power Plant سے منسلک 330 kV Ferosplavna-1 power line ایک فوجی حملے کے بعد منقطع ہو گئی تھی۔ بعد میں اسے دوبارہ energize کیا گیا، لیکن متعلقہ infrastructure فوری طور پر مکمل operational حالت میں واپس نہیں آ سکا۔

یہ محض بجلی کی ایک transmission line کا مسئلہ نہیں۔ Nuclear power plant کے لیے reliable off-site electricity انتہائی اہم ہوتی ہے۔ Reactor بند بھی ہو تو cooling، monitoring اور دیگر safety systems کے لیے مسلسل بجلی درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے جوہری تنصیب کے آس پاس electricity grid کی reliability خود nuclear safety کا حصہ بن جاتی ہے۔

IAEA کی اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 31 جنوری 2026 کو یوکرین کے national electrical grid میں ایک شدید disturbance کے باعث operating nuclear power plants کو اپنی پیداوار عارضی طور پر کم کرنا پڑی، جبکہ Khmelnytskyy Nuclear Power Plant کا ایک unit خودکار طور پر shutdown ہوا۔ چند روز بعد 7 فروری کو مزید military activities کے نتیجے میں grid instability پیدا ہوئی، جس کے بعد Khmelnytskyy اور Rivne سمیت مختلف nuclear units کے operation پر اثر پڑا اور کئی reactors کو کم output پر چلانا پڑا۔

20 جنوری کے واقعات نے Chornobyl site کو بھی متاثر کیا تھا۔ IAEA کے مطابق military activities کے دوران وہاں کئی high-voltage off-site power lines عارضی طور پر ضائع ہوئیں اور voltage fluctuations کی وجہ سے بعض emergency diesel generators کو خودکار طور پر فعال ہونا پڑا۔ یہ تمام واقعات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جدید بجلی کا grid کسی ملک کی روزمرہ سہولت ہی نہیں بلکہ critical national infrastructure کا بنیادی ستون ہے۔

ان واقعات کو محض روس–یوکرین تنازع کی روزانہ military chronology سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے۔ دنیا بڑے پیمانے پر دیکھ رہی ہے کہ ایک جدید صنعتی ریاست میں بجلی، transport، water supply، telecommunications، industry، hospitals اور nuclear safety کس طرح ایک ہی energy network سے جڑے ہوئے ہیں۔ Power grid میں شدید خلل پیدا ہو تو مسئلہ صرف گھروں میں اندھیرا ہونے تک محدود نہیں رہتا۔ پانی کی pumping، railway system، communications، hospitals، factories اور emergency services بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

توانائی infrastructure سے متعلق واقعات کی رپورٹنگ میں ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ جنگ کے ماحول میں ذمہ داری کے بارے میں فوری اور قطعی دعوے ہمیشہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتے۔ Nord Stream کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے۔ NATO نے pipeline damage کو sabotage قرار دیا، مگر ذمہ دار کے حتمی تعین کو تحقیقات کے ساتھ جوڑا۔ اسی طرح دیگر تنازعات میں بھی سرکاری دعووں، آزاد بین الاقوامی اداروں کی معلومات اور دستیاب technical evidence کے درمیان فرق برقرار رکھنا صحافتی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

البتہ ذمہ داری جس فریق کی بھی ہو، اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ توانائی infrastructure پر حملہ صرف ایک تنصیب کو متاثر نہیں کرتا۔ روس میں refinery capacity کم ہو تو petroleum-product exports متاثر ہوتے ہیں۔ یوکرین میں grid instability پیدا ہو تو بجلی کی پیداوار کے ساتھ nuclear safety پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ کسی cross-border pipeline کو نقصان پہنچے تو exporter اور importer دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ LNG terminal یا کسی اہم oil port کی بندش عالمی قیمتوں تک کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اسی لیے دنیا بھر میں energy infrastructure کی حفاظت اب روایتی صنعتی انتظام سے نکل کر دفاعی اور سلامتی پالیسی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ Physical security کے ساتھ cyber-security بھی اس نئی جنگ کا ایک اہم میدان ہے۔ جدید refineries، pipelines اور electricity grids increasingly digital control systems پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر ان systems کو cyberattack کے ذریعے متاثر کیا جائے تو physical destruction کے بغیر بھی supply chain میں بڑا خلل پیدا کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اس وقت روس–یوکرین جیسے کسی براہِ راست armed conflict کا حصہ نہیں، لیکن عالمی واقعات میں پاکستان کے لیے واضح اسباق موجود ہیں۔ Pakistan Economic Survey 2024-25 کے مطابق مارچ 2025 تک ملک کی مجموعی installed electricity generation capacity 46,605 میگاواٹ تھی۔ Hydel، nuclear اور renewable sources مجموعی installed capacity کا تقریباً 44.3 فیصد بن چکے تھے، جبکہ جولائی 2024 سے مارچ 2025 تک ملک میں پیدا ہونے والی بجلی میں انہی ذرائع کا حصہ 53.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔

یہ ایک اہم تبدیلی ہے، لیکن صرف بڑی installed capacity energy security کی ضمانت نہیں۔ اگر national transmission network اتنا مضبوط نہ ہو کہ ایک علاقے میں پیدا ہونے والی اضافی بجلی دوسرے حصے تک منتقل کر سکے، اگر بڑے substations کے لیے متبادل connections نہ ہوں یا critical energy installations کی physical اور cyber protection کمزور ہو تو کاغذ پر موجود ہزاروں میگاواٹ بحران کے وقت پوری طرح مؤثر نہیں رہتے۔

پاکستان اکنامک سروے میں بھی affordability، sustainability اور energy security کو ملک کے بنیادی challenges میں شمار کیا گیا ہے۔ مقامی قدرتی گیس کے ذخائر میں بتدریج کمی اور imported LNG پر بڑھتے ہوئے انحصار نے اس مسئلے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ پاکستان کو اسی لیے دنیا میں energy infrastructure کے خلاف ہونے والے واقعات کو صرف خارجی خبریں سمجھنے کے بجائے اپنی مستقبل کی پالیسی کے لیے warning کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔

ملک کو نئے power plants کے ساتھ grid resilience پر سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بڑے transmission corridors کے لیے alternative routes، critical substations کے لیے backup arrangements، oil refineries اور LNG terminals کی بہتر physical security، gas pipelines کی جدید monitoring اور پورے energy network کے لیے مضبوط cyber-defence systems آنے والے برسوں میں ناگزیر ہوں گے۔

اس پوری حکمتِ عملی میں ایک اصطلاح سب سے زیادہ اہم ہے: Redundancy۔ اس کا مطلب سادہ ہے۔ اگر ایک system ناکام ہو تو دوسرا کام کرتا رہے۔ ایک transmission line بند ہو تو alternative line موجود ہو۔ ایک supplier سے fuel نہ آئے تو دوسرا commercial arrangement فعال ہو سکے۔ کسی port کی activity متاثر ہو تو strategic reserves کچھ وقت کے لیے ملک کی ضرورت پوری کر سکیں۔ Grid failure کی صورت میں hospitals، communications اور دیگر critical services بغیر تاخیر emergency power پر منتقل ہو سکیں۔

معمول کے حالات میں ایسے backup systems اضافی خرچ محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن بحران کے وقت یہی کسی ملک کی اصل insurance ثابت ہوتے ہیں۔

روس کی مثال یہ سکھاتی ہے کہ بڑے oil reserves اور بھاری production کے باوجود refinery network میں disruption fuel-market dynamics کو بدل سکتا ہے۔ یوکرین کی مثال دکھاتی ہے کہ grid instability بجلی سے آگے بڑھ کر nuclear safety تک پہنچ سکتی ہے۔ Nord Stream کا واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ critical infrastructure صرف زمین پر ہی vulnerable نہیں بلکہ سمندر کی تہہ میں موجود pipelines بھی geopolitical confrontation کا حصہ بن سکتی ہیں۔

ان تمام مثالوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو جدید energy security کی مکمل تصویر سامنے آتی ہے۔ پہلے resource ہے، پھر production، اس کے بعد processing، transportation اور distribution کا مرحلہ آتا ہے، اور ان تمام مراحل کے اوپر physical اور cyber security کی ایک مکمل تہہ موجود ہے۔ اس chain میں کسی ایک اہم کڑی کے ٹوٹنے سے باقی وسائل کی عملی قدر فوری طور پر کم ہو سکتی ہے۔

شاید اسی لیے مستقبل میں کسی ملک کی توانائی طاقت صرف اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ اس کے پاس کتنے ارب بیرل oil reserves ہیں یا کتنے کھرب مکعب میٹر gas موجود ہے۔ زیادہ اہم سوال یہ ہوگا کہ اس کی refineries کتنی resilient ہیں، pipelines کتنی محفوظ ہیں، electricity grid کے کتنے alternative routes موجود ہیں، strategic reserves کتنے دنوں کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں اور کسی بڑے physical یا cyberattack کے بعد پورا system کتنی جلدی بحال ہو سکتا ہے۔

پاکستان کو بھی اپنی energy policy میں اسی بدلتی ہوئی حقیقت کو شامل کرنا ہوگا۔ Solar، wind، hydropower، nuclear، coal، oil اور gas سب اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن ان تمام ذرائع کے درمیان مضبوط transmission، storage اور distribution system کے بغیر حقیقی energy security ممکن نہیں۔

ہم اکثر توانائی کے بحران کا مطلب پیداوار کی کمی سمجھتے ہیں، لیکن دنیا کے حالیہ واقعات ایک مختلف سبق دے رہے ہیں۔ کبھی بحران توانائی کی عدم موجودگی سے نہیں بلکہ **توانائی تک رسائی ٹوٹ جانے سے** پیدا ہوتا ہے۔

Nord Stream میں گیس کی ضرورت اور وسائل موجود تھے، مگر pipeline متاثر ہو گئی۔ روس کے پاس خام تیل موجود رہا، مگر refinery processing میں رکاوٹ نے fuel supply dynamics بدل دیے۔ یوکرین میں nuclear generation موجود تھی، مگر grid instability نے reactors کو output کم کرنے یا عارضی shutdown پر مجبور کیا۔

یہی فرق محض توانائی کے ذخائر رکھنے اور حقیقی توانائی تحفظ کے درمیان ہے۔

آج دنیا کے سامنے بنیادی سوال شاید یہی ہے: کیا ہماری توانائی صرف موجود ہے، یا بحران کے وقت بھی ہمارے استعمال کے قابل رہے گی؟

جس ریاست کے پاس اس سوال کا قابلِ اعتماد جواب ہوگا، مستقبل کی عالمی توانائی سیاست میں حقیقی طاقت بھی اسی کے پاس ہوگی۔