ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے کئی آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں “پورے ملک کو اڑا دینا” بھی شامل ہے۔ اسی دوران رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذاکرات کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ عہدیداران اور کمانڈرز ہلاک ہوئے۔ 17 جون کو جنگ روکنے کے لیے کیا گیا مفاہمتی معاہدہ اگست کے وسط میں بغیر کسی مستقل حل کے ختم ہو گیا۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری تجارت تاحال متاثر ہے، جس سے عالمی توانائی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فاکس نیوز کے نامہ نگار ٹرے ینگسٹ نے بتایا کہ ٹرمپ نے انہیں بتایا کہ وہ “فیصلہ کن مرحلے” میں ہیں اور “مستقبل قریب میں بہت بڑے واقعات” پیش آنے کا اشارہ دیا۔ ینگسٹ کے مطابق ٹرمپ “ایران کو مکمل طور پر مٹا دینے، اسے معاشی طور پر تباہ ہونے دینے، یا معاہدہ کرنے” کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صدر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اس ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پزشکیان سے ملاقات کے لیے “کھلے ذہن” کے ساتھ تیار ہیں۔ ٹرمپ حالیہ مہینوں میں تہران کو بارہا دھمکیاں دے چکے ہیں۔ اپریل میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے واشنگٹن کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو اس کی “پوری تہذیب ختم ہو جائے گی”۔ تاہم گولہ بارود کی قلت کی اطلاعات کے دوران امریکہ نے جولائی کے آخر میں اپنی تازہ ترین حملوں کی لہر معطل کر دی تھی، جسے وائٹ ہاؤس نے مسترد کیا تھا۔ واشنگٹن نے گزشتہ ماہ زیادہ معاشی دباؤ کی جانب رخ کیا، اور ایران کو تنہا کرنے اور اس کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو سزا دینے کے لیے ایک “کچل دینے والے معاشی آپریشن” کا اعلان کیا۔ اسی دوران تہران نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی نیا امریکی حملہ مشرق وسطیٰ بھر میں امریکی اڈوں اور مفادات کے خلاف جوابی کارروائی کا باعث بنے گا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے ہفتے کے آخر میں کہا تھا کہ تہران نے مذاکرات کے آغاز کے لیے واشنگٹن کو سات شرائط پیش کی ہیں۔ انہوں نے بعد میں الجزیرہ کو بتایا کہ ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایرانی منجمد فنڈز کی بحالی، اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ قطر بطور ثالث کردار ادا کر رہا ہے۔ رضائی نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکیاں کوئی نتیجہ نہیں دیں گی، اور ایران ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہے۔ اس پس منظر میں مشرق وسطیٰ بھر میں امریکی سفارتی مشنز نے ہفتے کے آخر میں سیکیورٹی الرٹس جاری کیے، اور مزید کشیدگی کے خطرے کے پیش نظر امریکی شہریوں کو زیادہ چوکس رہنے کی تنبیہ کی۔ ان انتباہات میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے مابین دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کا بھی حوالہ دیا گیا۔