ماسکو (صداۓ روس)
کریملن نے امریکہ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو دسمبر میں میامی، فلوریڈا میں ہونے والے آئندہ جی20 اجلاس میں شرکت کی دعوت پر ردعمل دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج قبل ازیں تصدیق کی کہ واشنگٹن نے پوتن کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے بدھ کی رات آر آئی اے نووستی کو بتایا کہ روس اس دعوت کا “شکر گزار اور ممنون” ہے۔ پیسکوف نے مزید بتایا کہ پوتن کی ممکنہ شرکت سے متعلق فیصلہ سفارتی ذرائع سے کیا اور بتایا جائے گا۔
یہ سربراہی اجلاس 14 سے 15 دسمبر کو میامی میں طے شدہ ہے، جس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ڈورال گالف ریزورٹ میں کریں گے۔ پوتن نے 2019 کے بعد سے کسی جی20 اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کی، ابتدا میں وبا کی وجہ سے اور بعد میں 2022 میں یوکرین تنازع میں شدت کے اثرات کے باعث۔
ماسکو نے قبل ازیں کہا تھا کہ روس اس اجلاس میں اعلیٰ سطح پر نمائندگی کرے گا، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ پوتن ذاتی طور پر شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔
روبیو نے بدھ کو قبل ازیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ روسی صدر اجلاس میں شرکت کے لیے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ وہ یہ دعوت قبول کریں گے، اور اگر ایسا ہوا تو دسمبر میں ایک اہم موقع ہوگا۔
ٹرمپ خود بھی قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ وہ اجلاس میں اپنے روسی ہم منصب کی موجودگی چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپریل میں کہا تھا کہ اگر وہ آئیں تو یہ شاید بہت مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے ستمبر کے آغاز میں جی20 اجلاس میں اعلیٰ سطحی روسی وفد کی موجودگی کا بھی خیرمقدم کیا تھا، باوجود اس کے کہ یورپی یونین کے حکام نے روسی وزیر خزانہ انتون سلوانوف کے ساتھ اجلاس کی روایتی “خاندانی تصویر” میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔