برکینا فاسو میں صدر کو قتل کرنے کی سازش بے نقاب
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برکینا فاسو میں صدر ابراہیم تراورے سمیت اعلیٰ سول اور فوجی حکام کو قتل کرنے کی ایک سنگین سازش بے نقاب کر لی گئی ہے۔ یہ انکشاف ملک کے وزیرِ سلامتی مہامادو سانا نے سات جنوری کو کیا۔ وزیرِ سلامتی کے مطابق سازش کرنے والوں کا مقصد منظم ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ملک میں بدامنی اور افراتفری پھیلانا تھا، جس کا آغاز صدر ابراہیم تراورے کو راستے سے ہٹانے سے ہونا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو یا تو قریبی فاصلے سے نشانہ بنانے یا ان کی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس کے بعد بیرونی قوتوں کی زمینی مداخلت متوقع تھی۔ مہامادو سانا نے بتایا کہ اس کارروائی کا آغاز تین جنوری 2026 کی رات گیارہ بجے ہونا تھا۔ تحقیقات کے مطابق اس سازش کے پیچھے سابق صدر پال ہنری سانداوگو دامیبا کارفرما تھے، جبکہ مالی معاونت آئیوری کوسٹ سے کی جا رہی تھی۔ سکیورٹی اداروں نے سازش میں ملوث بعض افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ادھر شمالی آئیوری کوسٹ میں برکینا فاسو کی سرحد کے قریب چوبیس اگست کو مسلح افراد کے حملے میں چار شہری ہلاک، ایک زخمی اور ایک لاپتہ ہو گیا تھا۔ واقعے کے بعد آئیوری کوسٹ کی سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر فضائی اور زمینی وسائل تعینات کر کے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی تھی اور مقامی آبادی کو مدد فراہم کی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ انکشافات خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کی عکاسی کرتے ہیں اور ریاستی ادارے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔