افغانستان بھارتی ’کالونی‘ بن چکا ہے، پاکستان
اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان انتظامیہ نے افغانستان کو بھارتی “کالونی” میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایکس پر جمعہ کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اب “کھلی جنگ” کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ بیان پاکستان کی جانب سے افغانستان کے بڑے شہروں بشمول دارالحکومت کابل پر فضائی حملوں کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد توقع تھی کہ افغانستان میں امن قائم ہوگا اور طالبان افغان عوام اور خطے کے امن کے مفادات پر توجہ دیں گے۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی بنا دیا ہے، دنیا بھر کے دہشت گردوں کو جمع کیا ہے اور دہشت گردی برآمد کرنا شروع کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعے صورتحال کو نارمل رکھنے کی پوری کوشش کی اور مکمل سفارت کاری کی۔ تاہم طالبان بھارت کے پراکسی بن گئے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ “اب ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب ہمارے اور آپ (افغانستان) کے درمیان کھلی جنگ ہے۔”
بھارت نے اب تک ان الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اسلام آباد نے نئی دہلی پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ پاکستان اور کابل کے درمیان تنازع میں آگ بھڑکا رہا ہے۔ بھارت نے ان الزامات کی بارہا تردید کی ہے۔
اگست 2021 میں ایک بس دھماکے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں نو چینی ورکرز شامل تھے۔ پاکستان نے اسے بھی بھارت کی خارجہ انٹیلی جنس ایجنسی را اور افغانستان کی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کا مشترکہ کارنامہ قرار دیا تھا۔
گزشتہ اکتوبر میں کابل میں ایک دھماکہ اس وقت ہوا جب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان ملاقات ہونے والی تھی۔ مقامی میڈیا نے اسے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی سے جوڑا تھا۔
اکتوبر میں بھارت اور افغانستان نے طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے چار سال بعد دوبارہ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
جمعہ کو پاک افغان تنازع میں اضافے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دونوں ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ رمضان کے مہینے میں مکالمے کے ذریعے اختلافات حل کریں۔ انہوں نے ایکس پر لکھا: “رمضان کے مہینے میں افغانستان اور پاکستان کو ہمسایگی کے مکالمے کے ذریعے اختلافات حل کرنے چاہئیں۔”