ایران کے خلاف جارحیت خطے سے باہر بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے، روس
ماسکو (صداۓ روس)
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں پہلے ہی علاقائی کشیدگی میں تبدیل ہو چکی ہیں اور اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے بہت آگے تک پھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ روسی مندوب نے کہا کہ ایران جس جارحیت کا سامنا کر رہا ہے وہ خطے میں خطرناک حد تک کشیدگی کو بڑھا چکی ہے اور موجودہ صورتحال عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق حالات جس سمت جا رہے ہیں، اس سے وسیع تر بین الاقوامی تصادم کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ واسیلی نیبینزیا نے اسرائیل اور امریکا کی فوجی کارروائیوں کو سفارت کاری کے لیے “حقیقی دھوکا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے جب مذاکراتی عمل جاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال جون 2025 کی طرح ہے جب سفارتی کوششوں کے دوران ہی ایران کے خلاف حملے کیے گئے تھے۔
روسی مندوب کا کہنا تھا کہ جاری بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر سفارتی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر خطے میں عدم استحکام عالمی سطح پر سکیورٹی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔