کابل فضائی حملے، پاکستان اور طالبان کے درمیان کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل

Taliban Taliban

کابل فضائی حملے، پاکستان اور طالبان کے درمیان کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ایک نئے اور غیر معمولی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جب پاکستان نے جمعہ کی صبح افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے۔ پاکستانی حکام کے مطابق حملوں کا ہدف طالبان کی فوجی تنصیبات تھیں، جبکہ اسلام آباد نے طالبان حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے صورتحال کو عملی طور پر کھلی جنگ قرار دیا ہے۔ یہ فضائی حملے اس وقت کیے گئے جب افغان فورسز نے جمعرات کی رات سرحد پار کارروائیاں کرتے ہوئے پاکستان کے چھ سرحدی صوبوں میں فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ کابل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں میں 55 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے اور 19 چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا۔

پاکستانی حکام نے دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تاہم افغان دعوؤں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں کم از کم 133 افغان جنگجو ہلاک کیے گئے جبکہ 27 افغان چوکیوں کو تباہ کر دیا گیا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا صبر ختم ہو چکا ہے اور اب صورتحال کھلی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے خبردار کیا کہ ملکی دفاع کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل، قندھار اور پکتیا میں حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قندھار اور ہلمند سے جوابی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں وہ جنگ بندی بھی ختم ہو گئی ہے جو اکتوبر میں دس روزہ خونریز سرحدی لڑائی کے بعد ترکی اور قطر کی ثالثی میں طے پائی تھی، جس میں دونوں جانب سے 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعد ازاں دوحہ اور استنبول میں مذاکرات ہوئے مگر کوئی باضابطہ معاہدہ نہ ہو سکا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے کیونکہ کشیدگی کو محدود رکھنے کے لیے کوئی مؤثر سفارتی فریم ورک موجود نہیں۔