ایئر انڈیا کے بوئنگ ڈریم لائنر طیاروں کے فیول کنٹرول سوئچز کی جانچ شروع
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایئر انڈیا نے اپنے بوئنگ سات سو ستاسی ڈریم لائنر طیاروں کے بیڑے میں فیول کنٹرول سوئچز کی فوری جانچ کا حکم جاری کیا ہے، یہ اقدام ایک تکنیکی خرابی سامنے آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز لندن سے بنگلورو آنے والی ایک پرواز کے دوران عملے نے فیول کنٹرول سوئچ کے لاکنگ میکنزم میں خرابی کی نشاندہی کی تھی۔ اسی رپورٹ کے بعد پیر کو ایئر انڈیا نے ایک بوئنگ سات سو ستاسی ڈریم لائنر طیارہ عارضی طور پر گراؤنڈ کر دیا۔ ایئر انڈیا کے سینئر نائب صدر برائے فلائٹ آپریشنز منیش اُپل نے پائلٹس کو ارسال کی گئی ای میل میں بتایا کہ مذکورہ خرابی کی اطلاع ملتے ہی انجینئرنگ ٹیم نے معاملہ ترجیحی بنیادوں پر بوئنگ کے ساتھ اٹھا دیا ہے تاکہ اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں پورے بیڑے میں معائنہ مہم شروع کی جا رہی ہے۔
لندن بنگلورو پرواز کے پائلٹ کی رپورٹ کے مطابق بائیں جانب کا فیول کنٹرول سوئچ آن پوزیشن سے معمولی دباؤ پر کٹ آف کی طرف سرک جاتا تھا اور اپنی جگہ پر لاک نہیں ہو رہا تھا۔ اس نوعیت کی خرابی نے پہلے بھی سنگین خدشات کو جنم دیا تھا۔ گزشتہ سال مغربی بھارت کے شہر احمد آباد میں بوئنگ سات سو ستاسی آٹھ طیارے کے المناک حادثے میں دو سو ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد فیول کنٹرول سوئچ میں ممکنہ خرابی کے حوالے سے سوالات اٹھے تھے۔ اس حادثے کے بعد بھی ایئر انڈیا نے اپنے طیاروں کے معائنے کا حکم دیا تھا۔ ٹاٹا گروپ کی زیرِ ملکیت ایئر انڈیا کے بیڑے میں اس وقت بوئنگ سات سو ستاسی کے کل تیس طیارے شامل ہیں، جن میں چھبیس بوئنگ سات سو ستاسی آٹھ اور سات بوئنگ سات سو ستاسی نو شامل ہیں۔ دوسری جانب احمد آباد حادثے میں ہلاک ہونے والے چار مسافروں کے اہلِ خانہ نے امریکی فضائی ساز کمپنیوں بوئنگ اور ہنی ویل کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ طیارے کے ڈیزائن میں موجود خامی کے باعث فیول سپلائی منقطع ہوئی، جس کے نتیجے میں انجن مکمل طور پر ناکام ہو گئے۔