امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ، خطے میں شدید کشیدگی

missile missile

امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ، خطے میں شدید کشیدگی

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا اور اسرائیل نے اچانک ایران پر مشترکہ حملہ کر دیا، جس کے بعد دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور متعدد شہری زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ حملوں کے فوراً بعد ایران نے بھی اسرائیل پر میزائل حملہ کر کے جوابی کارروائی شروع کر دی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ ایریا میں متعدد میزائل گرے، جبکہ صدارتی محل اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب بھی سات میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں اور مضافات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جس کے باعث افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے بعد ملک میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی جبکہ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان محفوظ ہیں۔

اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف پیشگی فوجی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق یہ آپریشن کئی ماہ کی منصوبہ بندی کے بعد کیا گیا، جبکہ امریکی عہدیداروں نے بھی مشترکہ کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے فضا اور سمندر دونوں سمتوں سے جاری ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق حملوں کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور سخت جوابی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اب صورتحال حملہ آوروں کے کنٹرول میں نہیں رہی۔ ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے بتایا کہ دفاعی نظام فعال کر دیے گئے ہیں اور شہریوں کو شیلٹرز میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ حملوں کے فوراً بعد مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے جبکہ اسرائیل بھر میں اسکول بند کر دیے گئے اور فضائی حدود بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی۔ علاقائی اثرات کے تحت عراق نے اپنی فضائی حدود بند کر دی جبکہ کویت نے ایران کے لیے تمام پروازیں اگلے حکم تک معطل کر دیں۔