بھارت میں مشتعل ہاتھی کے حملے، 22 افراد ہلاک
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں ایک مشتعل ہاتھی نے رواں سال کے آغاز سے اب تک 22 افراد کو ہلاک کر دیا ہے، جن میں آٹھ ماہ کا ایک شیر خوار بچہ اور چار کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ یہ خبر 18 جنوری کو برطانوی اخبار ڈیلی مرر نے رپورٹ کی۔ اطلاعات کے مطابق صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر بھارتی حکام نے کم از کم 80 محکمہ جنگلات کے اہلکار متاثرہ علاقے میں تعینات کر دیے ہیں۔ اہلکار ہاتھی کو قابو میں کرنے کے لیے ٹرانکولائزر استعمال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہاتھی کے مسلسل حملوں کے باعث قریبی دیہات کے مکینوں کو اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہاتھی ممکنہ طور پر “مسٹھ” (Musth) کی کیفیت میں ہے، جو ہاتھیوں میں جنسی جوش کا ایک خطرناک دور ہوتا ہے۔ اس دوران ہاتھی انتہائی جارحانہ ہو جاتا ہے اور انسانوں سمیت دیگر جانداروں کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیفیت تقریباً 20 دن تک برقرار رہ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل 8 جنوری کو ایک اور ہاتھی “دھربے” کے بارے میں بتایا گیا تھا، جس نے 2010 کی دہائی کے آغاز میں نیپال کے چتوان نیشنل پارک میں 10 سے 20 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ تاہم حکام کے مطابق دھربے اب کنٹرول میں ہے اور اس وقت کوئی خطرہ نہیں۔ دھربے کا آخری بڑا حملہ 2021 کی بہار میں ریکارڈ کیا گیا تھا، جب اس نے چتوان نیشنل پارک میں گینڈوں کی آبادی گننے والے محققین پر حملہ کیا تھا۔