روس میں آتشزدگی کے واقعات میں کمی، روزانہ لگنے والی آگ کی بڑی وجہ انسانی لاپرواہی قرار

Emergency Ministry official Emergency Ministry official

روس میں آتشزدگی کے واقعات میں کمی، روزانہ لگنے والی آگ کی بڑی وجہ انسانی لاپرواہی قرار

ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارتِ ہنگامی حالات کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ ملک میں آتشزدگی کے واقعات میں مجموعی طور پر کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم اس کے باوجود روزانہ اوسطاً تقریباً نو سو آگ لگنے کے واقعات پیش آتے ہیں، جن میں سے ساٹھ فیصد انسانی غلطیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ یہ بات روسی وزارتِ ہنگامی حالات کے شعبۂ تفتیش و انتظامی امور سے وابستہ اہلکار ایلیا بیرشوف نے تیئیس جنوری کو کہی۔ ایلیا بیرشوف نے یہ بیان ازویستیا انٹرنیشنل انفارمیشن سینٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا، جس کا عنوان تھا ’’آگ کے پسِ پردہ: روسی وزارتِ ہنگامی حالات میں تفتیش کیسے کی جاتی ہے‘‘۔ یہ پریس کانفرنس تفتیشی کارکنوں کے دن کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔

ان کے مطابق روس میں آگ لگنے کی سب سے بڑی وجہ آگ کے ساتھ لاپرواہی برتنا ہے، جس میں ماچس، لائٹر، مکمل طور پر نہ بجھائے گئے سگریٹ اور دیگر خطرناک ذرائع شامل ہیں۔ اس کے علاوہ برقی آلات کے غلط استعمال سے بھی بڑی تعداد میں آتشزدگی کے واقعات پیش آتے ہیں، جن میں برقی ہیٹر، گھریلو ساختہ آلات اور چنگاریاں چھوڑنے والے برقی اوزار شامل ہیں۔

Advertisement

ایلیا بیرشوف نے خبردار کیا کہ روس میں بیس فیصد آگ کے واقعات برقی نظام یا برقی آلات کی ہنگامی خرابی کے باعث ہوتے ہیں۔ ان کے بقول اکثر آگ اس وقت لگتی ہے جب گیجٹس، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس جیسے بیٹری سے چلنے والے آلات چارج پر لگے ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہدایات کے مطابق ایسے آلات کو ہمیشہ نگرانی میں چارج کیا جانا چاہیے، نہ تو انہیں اکیلا چھوڑا جائے اور نہ ہی چارجنگ کے دوران کسی کمبل یا کپڑے سے ڈھانپا جائے، کیونکہ اس سے خرابی پیدا ہو سکتی ہے اور آگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل آٹھ جنوری کو روس کے مشرقی شہر ولادی ووستوک میں ایک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ریسکیو اہلکاروں نے دھوئیں سے بھرے داخلی راستوں سے بیالیس افراد کو بحفاظت نکالا، جن میں چار بچے بھی شامل تھے۔ اس آگ نے تقریباً ساٹھ مربع میٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور ایک شخص زخمی بھی ہوا تھا۔