چین میں تنہا رہنے والوں کے لیے چیک ان ایپ ‘سی لے ما’ وائرل ہوگئی

Sad women Sad women

چین میں تنہا رہنے والوں کے لیے چیک ان ایپ ‘سی لے ما’ وائرل ہوگئی

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
چین میں ایک ایسی موبائل ایپ تیزی سے مقبول ہو گئی ہے جو اکیلے رہنے والے افراد سے باقاعدگی سے یہ تصدیق کرواتی ہے کہ وہ زندہ اور محفوظ ہیں۔ چینی میڈیا کے مطابق ’سی لے ما‘ نامی یہ ایپ، جس کا انگریزی ترجمہ ’کیا آپ مر چکے ہیں؟‘ بنتا ہے، چین میں ایپل کے ایپ اسٹور پر سب سے زیادہ خریدی جانے والی ایپ بن چکی ہے۔ یہ صورتحال ملک میں تیزی سے بدلتی آبادیاتی ساخت اور بڑھتے سماجی خدشات کو نمایاں کرتی ہے۔

یہ ایپ ایک ڈیجیٹل چیک اِن نظام کے طور پر کام کرتی ہے اور اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کی قیمت آٹھ یوان، یعنی تقریباً ایک اعشاریہ پندرہ ڈالر ہے۔ ایپ کو دو ہزار پچیس کے وسط میں متعارف کرایا گیا تھا، تاہم اس کی ڈاؤن لوڈنگ میں نمایاں اضافہ جنوری کے آغاز میں دیکھنے میں آیا۔ صارفین کو روزانہ ایک بٹن دبا کر یہ اطلاع دینا ہوتی ہے کہ وہ محفوظ ہیں، اور اگر کوئی صارف مسلسل دو دن تک تصدیق نہ کرے تو ایپ خودکار طور پر پہلے سے منتخب کردہ ہنگامی رابطے کو اطلاع ارسال کر دیتی ہے۔

Advertisement

ایپ کی مقبولیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین میں دو رجحانات بیک وقت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک طرف نوجوانوں کی بڑی تعداد شادی اور بچوں کے بجائے اکیلے رہنے کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب معمر آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے جو اکثر قریبی خاندانی مدد کے بغیر تنہائی کا شکار ہے۔

ایپ کے تین نوجوان تخلیق کاروں میں سے ایک، جنہوں نے اپنا تعارف صرف لیو کے نام سے کرایا، نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ ایپ خاص طور پر بڑے شہروں میں اکیلے رہنے والے نوجوانوں کے لیے بنائی گئی ہے، جن میں پچیس سال کے لگ بھگ عمر کی خواتین نمایاں ہدف ہیں۔ ان کے مطابق ایسے افراد میں تنہائی کا شدید احساس پایا جاتا ہے اور انہیں یہ خدشہ بھی لاحق رہتا ہے کہ کسی ہنگامی صورتحال میں کوئی ان کی خبر نہ لے سکے۔

چین میں دو ہزار چوبیس میں مسلسل تیسرے سال آبادی میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دو ہزار تیئیس میں چین دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہونے کا اعزاز بھی بھارت کو منتقل کر چکا ہے۔ شرحِ پیدائش میں کمی، متوقع عمر میں اضافہ، شادیوں میں کمی اور طلاق کی بڑھتی شرح کے نتیجے میں ایک فرد پر مشتمل گھروں کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔

سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی میں سماجی آبادیات کی ماہر وی جون جین یونگ کے مطابق یہ خدشات حقیقی ہیں اور چین تیزی سے ایسے معاشرتی ڈھانچے کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں بڑی تعداد میں افراد تنہا زندگی گزار رہے ہوں گے۔ دو ہزار اکیس میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق دو ہزار تیس تک چین میں ایک فرد پر مشتمل گھروں کی تعداد بیس کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ آبادی کا تیس فیصد سے زائد حصہ اکیلا رہ رہا ہوگا۔

اسی طرح دو ہزار اکیس میں کیے گئے ایک سرکاری سروے کے مطابق چین میں ساٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے تقریباً ساٹھ فیصد افراد یا تو اکیلے رہتے ہیں یا صرف اپنے شریکِ حیات کے ساتھ، جو دو ہزار دس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔