آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے درمیان نیا سکیورٹی معاہدہ طے پا گیا
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
آسٹریلیا اور انڈونیشیا نے ایک نیا سکیورٹی معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا اور انڈونیشیا میں نئے فوجی تربیتی مراکز کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ معاہدہ جمعے کے روز جکارتہ میں دستخط کیا گیا۔ آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیزے نے معاہدے کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت ایک سینئر انڈونیشیائی فوجی افسر کو آسٹریلوی ڈیفنس فورس میں تعینات کیا جائے گا، جبکہ آسٹریلیا انڈونیشیا کی فوجی تربیتی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مشترکہ مشقوں کے انعقاد میں بھی مدد فراہم کرے گا۔ بیان کے مطابق آسٹریلیا انڈونیشیا میں فوجی تربیتی سہولیات کے قیام میں تعاون کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی مشقوں کو فروغ دیا جا سکے۔ آسٹریلیا ایشیا پیسیفک خطے میں اپنی عسکری موجودگی مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، جہاں چین کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب انڈونیشیا اپنی خارجہ پالیسی میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور کسی ایک فریق کا ساتھ دے کر اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار چین کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔
انتھونی البانیزے نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا اور انڈونیشیا دنیا کی طویل ترین سمندری سرحدوں میں سے ایک کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں، جو انہیں قدرتی طور پر قریبی شراکت دار بناتا ہے، تاہم اب دونوں ممالک محض شراکت دار نہیں بلکہ قریبی دوست بھی بن چکے ہیں۔ انڈونیشیا کے صدر پروبووو سوبیانتو نے کہا کہ یہ نیا معاہدہ اچھے ہمسائیگی کے اصول اور انڈونیشیا کی آزاد اور متحرک خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام اور تعاون کے لیے ایک اہم ستون ثابت ہوگا۔ یہ معاہدہ 2024 میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کی توسیع ہے، جس کے تحت ایشیا پیسیفک کے متنازع خطے میں قریبی تعاون پر اتفاق کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال اس معاہدے کے بعد مشرقی جاوا میں ہزاروں آسٹریلوی اور انڈونیشیائی فوجیوں نے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی تھیں۔ انتھونی البانیزے اس وقت انڈونیشیا کے پانچویں سرکاری دورے پر ہیں، جو ہفتے کے روز مکمل ہوگا۔