ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
آسٹریلیا نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ آسٹریلیا کی وزیر برائے انفراسٹرکچر و ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ ان کا ملک اس مقصد کے لیے بحری جہاز فراہم نہیں کرے گا۔ اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کیتھرین کنگ نے کہا کہ آسٹریلیا متحدہ عرب امارات میں دفاعی معاونت کے لیے طیارے فراہم کرے گا، تاہم آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ ایسا معاملہ نہیں جس کے لیے آسٹریلیا سے درخواست کی گئی ہو یا جس میں ان کا ملک عملی طور پر حصہ ڈال رہا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایسا اقدام نہیں ہے جس میں آسٹریلیا شرکت کر رہا ہو، اس لیے حکومت نے واضح طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے میں بحری جہاز نہیں بھیجے جائیں گے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ممالک جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس اہم سمندری گزرگاہ میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانے میں حصہ لینا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے برطانیہ، چین، جنوبی کوریا، فرانس اور جاپان کا ذکر بھی کیا تھا۔
دوسری جانب دو مارچ کو ایران کی پاسداران انقلاب کے میجر جنرل ابراہیم جباری نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی مجموعی تیل برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ پانچ مارچ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز باضابطہ طور پر بند نہیں ہے، تاہم دونوں جانب سے حملوں کے خدشے کے باعث جہاز اور تیل بردار ٹینکر اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔