سڈنی میں شارک کے حملے میں ہلاک ہونے والے بچے کو بانڈی بیچ پرخراج تحسین

shark shark

سڈنی میں شارک کے حملے میں ہلاک ہونے والے بچے کو بانڈی بیچ پرخراج تحسین

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی بندرگاہ میں شارک کے حملے میں جان کی بازی ہارنے والے بارہ سالہ لڑکے کو بونڈائی بیچ پر ایک خصوصی سرفنگ تقریب کے ذریعے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ یہ تقریب ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب ملک کے مشرقی ساحل پر شارک حملوں کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ نیکو اینٹک نامی لڑکا چوبیس جنوری کو اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ وہ اس سے چھ روز قبل اپنے دوستوں کے ساتھ واؤکلیوز کے علاقے میں چٹانوں سے سمندر میں چھلانگ لگا رہا تھا، جو سڈنی کے مرکزی کاروباری علاقے سے تقریباً نو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، کہ اسی دوران اس پر شارک نے حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں نیکو کی دونوں ٹانگوں کو شدید زخم آئے، جبکہ اس کے دوستوں نے فوری طور پر اسے پانی سے باہر نکالا۔

بونڈائی بیچ پر منعقد ہونے والی کمیونٹی تقریب میں سرفرز اور پیڈل بورڈرز نے سمندر میں ایک بڑا دائرہ بنا کر نیکو کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ فضائی مناظر میں دیکھا گیا کہ درجنوں افراد خاموشی اور احترام کے ساتھ اس یادگاری سرگرمی میں شریک تھے۔ مقامی سرف لائف سیورز، اسکول کے دوست اور نیکو کے اہلِ خانہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ رواں ماہ کے دوران شدید بارشوں کے باعث پانی گدلا ہونے سے شارک کے ساحلی علاقوں میں آنے کے امکانات بڑھے، جس کے نتیجے میں صرف دو دن کے اندر چار شارک حملوں کے بعد سڈنی سمیت درجنوں ساحل بند کر دیے گئے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی سڈنی کے لانگ ریف بیچ پر ایک سرفر شارک کے حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ ماحولیاتی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں اوسطاً سالانہ بیس شارک حملے ہوتے ہیں، جن میں سے تین سے بھی کم واقعات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان اعداد و شمار کے مقابلے میں ساحلوں پر ڈوبنے سے ہونے والی اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

Advertisement