ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برازیل کے صدر لُوئز اناسیو لولا دا سلوا نے BRICS کے رکن جنوبی افریقہ سے دفاعی تعاون کو بڑھانے اور غیر ملکی ہتھیاروں پر انحصار کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دونوں ممالک دفاعی طور پر تیار نہ ہوئے تو “حملے” کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا کی برازیلیا آمد کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لولا نے کہا کہ دونوں ممالک کو ممکنہ خطرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “مجھے نہیں معلوم کہ ساتھی رامافوسا کو احساس ہے کہ اگر ہم دفاعی اعتبار سے تیاری نہ کریں تو ایک دن کوئی ہم پر حملہ کر دے گا۔”
لولا نے برازیل اور جنوبی افریقہ کے درمیان دفاعی صنعت کے قریبی تعاون پر زور دیا اور غیر ملکی ہتھیاروں کے سپلائرز پر انحصار کم کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا، “ہمیں اپنی صلاحیتوں کو ملا کر دیکھنا چاہیے کہ ہم مل کر کیا پیدا کر سکتے ہیں اور مل کر کیا تعمیر کر سکتے ہیں۔ ہمیں غیر ملکی ہتھیاروں کے سپلائرز سے خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
سیرل رامافوسا نے جواب میں کہا کہ برازیل دفاعی اور ہوائی شعبے میں جنوبی افریقہ سے “کہیں زیادہ ترقی یافتہ” ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہم ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور ایک دوسرے کو بہت کچھ دکھا بھی سکتے ہیں۔”
دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے BRICS کے رکن ایران پر جاری فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے اور فوری جنگ بندی اور مذاکراتی حل کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق منگل کو تہران پر نئی حملوں کی لہر میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مجموعی اموات 1,300 سے تجاوز کر چکی ہیں جن میں زیادہ تر شہری شامل ہیں۔
لولا نے لاطینی امریکہ میں امریکی کارروائیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کے لیے امریکہ نے “ناقابل قبول حد” پار کی ہے۔
علاقائی کشیدگی اس وقت بڑھ رہی ہے جب امریکہ نے کیریبین سمندر اور مشرقی بحرالکاہل میں مبینہ منشیات کی سمگلنگ کرنے والی کشتیوں پر فوجی حملے کیے اور کیوبا پر تیل کی ناکہ بندی عائد کی۔ ہفتہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاطینی امریکی رہنماؤں کو منشیات کے بڑے کارٹلز کے سرغنہ افراد کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی میزائل تعاون کی پیشکش کی۔
واضح رہے کہ BRICS کو 2006 میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ایک فورم کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اب اس میں دس ممالک شامل ہیں: برازیل، چین، بھارت، روس، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات۔