Connect with us

انٹرنیشنل

کیا پوتن اور بائیڈن دوبارہ صدر منتخب ہو سکتے ہیں ؟

Published

on

امریکہ اور روس کے صدارتی انتخابات –
-کیا پوتن اور بائیڈن دوبارہ صدر منتخب ہو سکتے ہیں

اشتیاق ہمدانی / ماسکو نامہ

کیا پوتن اور بائیڈن دوبارہ صدر منتخب ہو سکتے ہیں، ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ بات تیزی کے ساتھ زیر بحث ہے کہ امریکہ میں اور کون صدارت کے لیے انتخاب لڑ سکتا ہے اور امریکہ سمیت نیٹو اتحادی اور نیٹو میں شمولیت کے خواہشمند یا یورپی یونین کے ممالک میں یہ درد سر اس سے زیادہ ہے کہ روس کے صدارتی انتخابات کا کیا کیا جائے۔ روس خود تو سفید ریچھ کی طرح سکون میں وقت گذار رہا ہے لیکن روس کے باہر بہرحال یہ تشویش موجود ہے، گو کہ انتخابات کو ابھی روس میں ڈیڑھ اور امریکہ میں 2 سال باقی ہیں۔ لیکن یوکرین تنازع کے تناظر میں دونوں اطراف میں چہرے کی تبدیلی کی خواہش میں شدت محسوس کی جاسکتی ہے۔ آج ہم 2024 امریکہ روس دونوں ممالک کی متوقع انتخابی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات، وائٹ ہاؤس نے موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کے 2024میں دوسری مدت کے لیے انتخابات میں جانے کے ارادے کا اعلان کیا، لیکن ابھی تک باضابطہ درخواست کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔

تاہم، تازہ ترین پولز کے مطابق، %64 امریکی نہیں چاہتے کہ بائیڈن اگلی صدارتی دوڑ میں حصہ لیں۔ جہاں تک ریپبلکن کا تعلق ہے، سابق امریکی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ بارہا اپنے ارادوں کا اظہار کر چکے ہیں۔ تاہم، ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹیاں اب بھی کم عمر اور زیادہ توانا سیاست دانوں کو ترجیح دے سکتی ہیں، جس سے 45ویں اور 46ویں صدور کو دوسری مدت کے لیے کوئی موقع نہیں ملے گا۔ یہ بات کہ 79 سالہ جو بائیڈن ایک اور مدت کے لیے صدارتی عہدے پر رہنے کی کوشش کریں گے، یہ بات کافی عرصے سے جاری کئی حلقوں میں گردش کر رہی ہے۔ چنانچہ، 4 اکتوبر کو، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرین جین پیئر نے صدر کے اپنے سیاسی کیریئر کو جاری رکھنے کے ارادوں کا اعادہ کیا۔

انہوں نے ایک بریفنگ میں کہا ، “میں صرف وہی دہراوں گی جو صدر نے کئی بار کہا ہے ، جو میں نے کئی بار کہا ہے: صدر میدان چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں ،”۔ اگست میں، بلومبرگ نے خبر دی تھی کہ 46 ویں صدر 8 نومبر کے وسط مدتی کانگریسی انتخابات کے بعد، دوبارہ انتخاب کے لیے باضابطہ طور پر درخواست دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس سیاسی مہم میں، ویسے، ڈیموکریٹس کو مشکلات کا سامنا ہے – ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ ایوان نمائندگان میں اکثریت ریپبلکن پارٹی کے پاس جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی امکان ہے کہ سینیٹ اب بھی ’’بلیو‘‘ کے پاس رہے گی لیکن اس بارے میں مکمل یقین نہیں ہے۔

2024 میں صدارتی دوڑ کے حوالے سے رائے عامہ کے جائزوں کے بعد جو اشارے ملتے ہیں ان کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے نئے امیدوار جو بائیڈن کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں طاقتور وسائل ہیں جن میں مالی اور میڈیا وسائل بھی شامل ہیں، اس لیے وہ سابق سربراہ مملکت کو دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ تاہم وہ ٹرمپ کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں، ٹرمپ کے خلاف مہم پہلے ہی جاری ہے، ڈیموکریٹس آنے والے پارلیمانی انتخابات میں خود کو اکٹھا کرنے اور ٹرمپ کو ڈبونے کے لیے سب کچھ کریں گے۔ یہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ امریکی معاشرہ کس قدر پولرائزڈ ہے، عملی طور پر دو کیمپوں میں بٹا ہوا ہے۔ درحقیقت، اب امریکہ کے سابق صدر کئی مجرمانہ مقدمات میں شامل ہوتے نظر آتے ہیں۔ آج تک کی تازہ ترین تحقیقات میں خفیہ دستاویزات شامل ہیں جو ٹرمپ فلوریڈا میں اپنی پام بیچ اسٹیٹ میں لے گئے۔ اس کے نتیجے میں، 300 سے زیادہ خفیہ فائلیں دریافت ہوئیں، اور ٹرمپ پر جاسوسی کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔

تاہم، جب تک سرکاری الزامات عائد نہیں کیے جاتے اور عدالت کوئی فیصلہ نہیں دیتی، سابق صدر کو امریکہ کے سربراہ کے طور پر دوبارہ ہاتھ آزمانے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ نئے چہرے آنے والے انتخابات میں بائیڈن اور ٹرمپ کی شرکت کے بارے میں فعال بحث یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ 2020میں ڈوئل کی تکرار سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔ اس کے باوجود اعداد و شمار کے مطابق زیادہ سے زیادہ امریکی وائٹ ہاؤس کے لیے نئے امیدواروں کے درمیان مقابلہ دیکھنا چاہیں گے۔ اگرچہ ٹرمپ اپنی پارٹی کے ارکان میں کافی مضبوط پوزیشن رکھتے ہیں (یہاں تک کہ اس حقیقت کے باوجود کہ 6 جنوری کو کیپیٹل ہل میں ہنگامے اور 2020 کے انتخابات کو چیلنج کرنے کی کوششوں کے درمیان کچھ ریپبلکنز نے ان کی مذمت کی تھی، ملک اب بہت سے معاملات پر سنجیدگی سے تقسیم ہے، بشمول مثال کے طور پر اسقاط حمل کا حق۔

نتیجے کے طور پر، یہ حمایت کافی ہونے کا امکان نہیں ہے، اس کے علاوہ، یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابق صدر 2024میں 78سال کے ہو جائیں گے، اس پس منظر میں، ریڈز نوجوان اور زیادہ پرجوش سیاست دانوں کی طرف بھی دیکھ سکتے ہیں، جیسے فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹیس کی مثال دی جا سکتی ہے۔ تاہم صدارتی انتخابات میں ابھی دو سال باقی ہیں، اور امریکہ کی سیاسی تصویر میں بہت کچھ بدل سکتا ہے، خاص طور پر کانگریس میں وسط مدتی انتخابات کے بعد صورتحال یکسر واضح ہو جائے گی۔ روس میں صدارتی انتخابات: امریکہ ہی نہیں دنیا بھر کے لئے 2024 کا سال بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ روس میں بھی 6سال بعد صدارتی انتخابات ہونگے ۔ روسی فیڈریشن کے انتخابی قانون کے مطابق روس میں اگلے صدارتی انتخابات اتوار 17 مارچ 2024 کو متوقع ہیں۔

امریکہ جہاں 4 سال بعد صدارتی انتخابات ہوتے ہیں، لیکن روس میں صدارتی مدت 2020 میں آئین کی تبدیلی کے بعد 6 سال کر دی گئی، کوئی بھی شخص 2 ٹرم 6 سال کے لئے روس کا صدر کا الیکشن لڑ سکتا ہے۔ صدر پوتن چو پہلے 2 ٹرم میں 4 / 4 سال یعنی 8 سال صدر رہے۔ پھر 4 سال وزیراعظم اور اس کے بعد ریاستی ڈوما کی قوانین میں تبدیلوں کے بعد رشین فیڈریشن کے آئین کے مطابق، 2020 کی ترامیم نے اصطلاح کی حد کی شق سے لفظ “مسلسل” کو ہٹا دیا، اصولی طور پر، ایک شخص کو دو سے زیادہ مدتوں تک صدارت رکھنے سے روک دیا۔ ان ترامیم میں ایک “صفر” بھی شامل ہے – ان شہریوں کے لیے جو پہلے ہی ترامیم کو اپنانے کے وقت صدارت پر فائز تھے یا ہیں جیسے (ولادیمیر پوٹن اور دیمتری میدویدیف) کو مزید 2 مدت کے لیے اس عہدے پر فائز رہنے کی اجازت ہوگی۔ یعنی صدر پیوٹن 2036 تک صدارتی کرسی پر براجمان رہ کر امریکہ اور مغربی ممالک کے لئے درد سر رہیں گے۔ 1998 میں بورس یلسن کو اسی طرح کی صورتحال میں تیسری صدارتی مدت کے لیے انتخاب لڑنے پر پابندی لگا دی گئی تھی، ترامیم پر ووٹنگ کی تیاریوں کے دوران، پوتن نے 2024 کے انتخابات میں اپنی شرکت کا عندیہ دے دیا تھا۔

عالمی میڈیا نے لکھا تھا کہ ولادیمیر پوتن کو 2036 تک صدر منتخب کر لیا گیا۔ 2012 سے 2018 صرف صدر پوتن کو 6 سال کے لئے صدر منتخب ہوگئے پھر دوسری ٹرم میں بھی 2018 سے 2024 تک صدر ہیں۔ اب 2020 کی آئینی تبدیلی نے صدر پوتن کا راستہ 2036 تک صاف کر دیا ہے۔ امریکہ میں انتخابات نومبر 2024 میں ہونے ہیں اور روس میں مارچ 2024 لیکن پھر بھی روسی میڈیا یا عوام میں انتخابات کے حوالے سے کوئی خاص تبصرے سامنے نہیں آئے۔ شاید اس لئے کہ روسیوں کے نزدیک یہ سب قبل ازوقت ہے۔ لیکن روس یوکرین تنازعہ کے تناظر میں یہ بات طے ہے کہ صدر پوتن ملک کی بھاگ دوڑ 2024 میں بھی سنمبال لیں گے۔ کیونکہ رشیا کسی بھی ایسی صورتحال متحمل نہیں ہوسکتا کہ کوئی نیا صدر بنے اور اس کو معاملات سمجھنے میں 2/3 سال درکار ہوں تب تک پانی روس کے سر سے گذر چکا ہو۔

مشرق و مغرب خواہ جاپان ہو یا یورپی ممالک اور امریکہ سب روس کے ساتھ سفارتی ,سیاسی اور تجارتی تعلقات میں کشیدگی اس وقت اہم سوال ہے۔ حال ہی میں آل رشین پبلک اوپینین ریسرچ سینٹر (vtsiom) نے ولادیمیر پوتن کے لیے ایک نئی ٹرسٹ ریٹنگ شائع کی ہے جس میں م پبلک نیوز سروس سروے کی رپورٹ کے مطابق، ملک کے 80فیصد سے زیادہ باشندوں نے روسی فیڈریشن کے صدر پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ روسی رہنما کی سرگرمیوں کی منظوری کی شرح چند ماہ پہلے 78.0فیصد تھی۔ سروے کے 80.7فیصد شرکاء نے ولادیمیر پوتن پر اعتماد کے بارے میں براہ راست سوال کا مثبت جواب دیا۔ روسی عوام صدر پوتن کے گزشتہ 22سالہ اقتدار کے بعد کسی نئے چہرے کی تبدیلی کی خواہش تو رکھتے ہوں گے لیکن روسی عوام امریکہ کی سربراہی میں نیٹو کے روس کے خلاف عزائم کو سمجھتے ہوئے صدر پوتن کے ہاتھوں میں ہی روس کا دفاع سمجھتی ہے۔ روس کی اپنی ایک تاریخ ہے اور بدقسمتی سے دوسری جنگ عظیم میں سوویت یونین پر ہٹلر مغربی ممالک کے ساتھ ہی چڑھ دوڑا تھا۔ روس کے عوام 77 سال سے ان زخموں کو ہر سال 9 مئی کو ریڈاسکوائر پر سجاتے ہیں۔

ان حالات میں روسیوں میں مغربی ممالک کی یلغار کا ڈر اور شک مذید پختہ ہو جاتا ہے۔ روس یوکرین تنازعہ کے حل کا کارڈ کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے پاس ہے گو کہ مغربی میڈیا میں صدر پوتن کی صحت کے حوالے سے کینسر جیسی موذی مرض کی خبریں ملی کو دیکھ کر کبوتر کی آنکھیں بند کرنے والی مثال کے مانند ہے۔ آیندہ صدر ولادیمیر پوتن کے بجائے موجود صدر ولادیمیر پوتن سے مغرب تعلقات اور امن کے لئے بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ کیونکہ موجودگی صدر پر الیکشن کا دباؤ بہرحال موجود ہے۔ لیکن سروے سچ ثابت ہوئے تو آئندہ صدر ولادیمیر پوتن زیادہ اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئیں گے تو مغرب کو اس وقت بہت کچھ کھونا پڑے –

Continue Reading

انٹرنیشنل

یوکرین کے فوجی وفد کا خفیہ دورہ اسرائیل

Published

on

یوکرین کے فوجی وفد کا خفیہ دورہ اسرائیل

یوکرین کے فوجی وفد کا خفیہ دورہ اسرائیل

کیف (انٹرنیشنل ڈیسک)
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پیر کی رات یوکرین کا ایک فوجی وفد خفیہ طور پر اسرائیل پہنچا جہاں اس نے اسرائیل کے اعلی فوجی حکام سے ملاقات کی۔ اسرائیل کے چینل 13 کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے روس کے ساتھ کشیدگی نہ بڑھنے کے پیش نظر یوکرین کے فوجی وفد کے دورے کو خفیہ رکھا ہے۔ یوکرین کے فوجی وفد کے دورے کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ماسکو اور تل ابیب کے تعلقات اسرائیل کی جانب سے جنگ یوکرین میں یورپ کی حمایت کی وجہ سے کشیدہ ہو گئے۔

یوکرائنی حکام کے مبینہ دورہ اسرائیل کا مقصد یوکرین کے میزائل ڈیفنس کو قبل از وقت وارننگ سسٹم فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ یوکرین کے وفد نے فوجی امداد کی درخواست کی ہوگی۔ اس دورے کے دوران یوکرینی وفد کی اسرائیلی فوجی اور دفاعی حکام کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔ اس سے پہلے 16 اکتوبر 2022 کو اسرائیل کے وزیر برائے تارکین وطن امور نخمان شائی نے اسرائیلی حکومت سے یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم 19 اکتوبر 2022 کو اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل یوکرین کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا۔

Continue Reading

ٹرینڈنگ