ہونڈائی موٹرز کا کارخانوں میں انسان نما روبوٹس متعارف کرانے کا اعلان

Hyundai Hyundai

ہونڈائی موٹرز کا کارخانوں میں انسان نما روبوٹس متعارف کرانے کا اعلان

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی کوریا کی عالمی آٹو موبائل کمپنی ہونڈائی موٹر گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2028 سے اپنے کارخانوں میں انسان جیسے روبوٹس استعمال کرنا شروع کرے گی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کی بڑی کمپنیاں نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداوار بڑھانے اور افرادی قوت پر دباؤ کم کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ہیونڈائی نے لاس ویگاس میں منعقدہ کنزیومر الیکٹرونکس شو میں انسان نما روبوٹ “اٹلس” کی نمائش کی، جسے معروف ٹیکنالوجی کمپنی بوسٹن ڈائنامکس نے تیار کیا ہے۔ ہیونڈائی بوسٹن ڈائنامکس میں اکثریتی حصص کی مالک ہے اور اس روبوٹ کو اپنی عالمی صنعتی سرگرمیوں کا حصہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اٹلس روبوٹس کو مرحلہ وار ہیونڈائی کے عالمی نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا، جن میں امریکا کی ریاست جارجیا میں واقع وہ فیکٹری بھی شامل ہے جو 2025 میں امیگریشن حکام کے ایک بڑے چھاپے کی زد میں آئی تھی۔

ہیونڈائی کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹس ابتدا میں محدود صنعتی کام انجام دیں گے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ذمہ داریاں بڑھائی جائیں گی۔ اٹلس کو اس انداز میں تیار کیا جا رہا ہے کہ وہ انسانی کارکنوں کے ساتھ مل کر کام کر سکے اور بعض مشینوں کو خود مختار طور پر بھی چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ کمپنی کے مطابق انسان نما روبوٹس کے استعمال سے انسانی کارکنوں پر جسمانی دباؤ کم ہوگا، خطرناک کاموں میں انسانی جانوں کو لاحق خطرات میں کمی آئے گی اور صنعتی پیداوار میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار ہوگی۔ ہیونڈائی نے اس منصوبے کے تحت روبوٹس کی ابتدائی تعداد یا لاگت سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ تاہم کمپنی کے نائب چیئرمین جیہون چانگ نے اعتراف کیا کہ روبوٹس کے باعث روزگار کے حوالے سے خدشات موجود ہیں، مگر ان کا کہنا تھا کہ روبوٹس کو تربیت دینے اور نگرانی جیسے شعبوں میں انسانی کردار بدستور ضروری رہے گا۔

Advertisement

یہ اعلان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ ہیونڈائی نے 2025 میں امریکا میں 20 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد گاڑیوں کی پیداوار بڑھانا، خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کرنا تھا۔ جارجیا میں ہیونڈائی اور ایل جی کے اشتراک سے چلنے والا بیٹری پلانٹ کمپنی کی امریکی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔ ستمبر 2025 میں اس پلانٹ پر امیگریشن حکام کے چھاپے کے دوران سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں کم از کم 300 جنوبی کوریائی شہری شامل تھے۔ اس کارروائی پر جنوبی کوریا میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ بعد ازاں واشنگٹن اور سیول کے درمیان معاہدے کے تحت زیرِ حراست کارکنوں کو رہا کیا گیا۔ ہیونڈائی کے چیف ایگزیکٹو نے بعد میں بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے اس واقعے پر ذاتی طور پر معذرت بھی کی تھی۔