برفباری کا طوفان: بابوسر ناران روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند
اسلام آباد (صداۓ روس)
شمالی علاقوں میں شدید برفباری اور سرد لہر کے باعث وادی کاغان کے ٹاؤن ناران کو چلاس سے ملانے والا بابوسر روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ دیامر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، بابوسر ٹاپ اور ملحقہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں برف کی چادر بچھ گئی ہے، جس سے سڑکوں پر خطرناک پھسلن اور حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ برف ہٹانے کے لیے فی الحال کوئی اقدامات نہیں کیے گئے، اور دیامر و خیبر پختونخوا کی حدود سے سیکیورٹی فورسز واپس بلا لی گئی ہیں، لہٰذا روڈ تاحکم ثانی بند رہے گا۔
یہ فیصلہ 29 نومبر 2025 کو اثر انداز ہوا، جب شمالی پاکستان میں موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے اور بابوسر پاس، جو 13,700 فٹ کی بلندی پر واقع ہے، ہر سال اکتوبر-نومبر سے جون تک برفباری کی وجہ سے بند رہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیوز اور تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ دنوں بھی برفباری سے سیکڑوں سیاح اور مسافر پھنس چکے تھے، جنہیں مقامی انتظامیہ نے چلاس اور بشام کے ہوٹلوں میں منتقل کیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستوں جیسے بشام-کوہستان روڈ یا قراقرم ہائی وے کا استعمال کریں تاکہ کسی جان لیوا حادثے سے بچا جا سکے۔
بابوسر روڈ شمالی علاقوں کا ایک اہم شاہراہ ہے جو کاغان ویلی کو گلگت بلتستان سے جوڑتا ہے، اور اس کی بندش سے سیاحت متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر موسم سرما میں پہلے ہی محدود رہنے والی ٹورزم سرگرمیوں پر۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور متعلقہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ برف ہٹانے کا کام اگلے موسم بہار میں شروع ہوگا، جو عام طور پر مئی یا جون میں روڈ کو دوبارہ کھول دیتا ہے۔ مسافرین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے مقامی انتظامیہ یا NDMA کی ویب سائٹس چیک کریں