چین امریکا کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد ہے، کینیڈین وزیرِاعظم
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں کینیڈا کے لیے چین کے ساتھ معاملات کرنا امریکا کے مقابلے میں زیادہ آسان اور قابلِ پیش گوئی ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں واضح پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے اور ان کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیرِ اعظم مارک کارنی نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی، جو آٹھ سال کے وقفے کے بعد کسی بھی کینیڈین رہنما کا چین کا پہلا دورہ تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے تھے۔ یاد رہے کہ اپریل دو ہزار پچیس میں انتخابی مہم کے دوران مارک کارنی نے چین کو کینیڈا کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی خطرہ قرار دیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکا کی اکاون ویں ریاست بنانے کے بیانات اور بھاری تجارتی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد کینیڈین وزیرِ اعظم کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کینیڈا کے تعلقات بلاشبہ زیادہ گہرے، وسیع اور کثیرالجہتی ہیں، تاہم چین کے ساتھ حالیہ مہینوں میں تعلقات جس انداز میں آگے بڑھے ہیں، وہ زیادہ قابلِ پیش گوئی ہیں اور ان سے عملی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
اسی دورے کے دوران بیجنگ اور اوٹاوا کے درمیان ایک ابتدائی تجارتی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت برقی گاڑیوں اور کینولا کے بیجوں پر عائد ٹیرف میں نمایاں کمی کی جائے گی۔ مارک کارنی نے امید ظاہر کی کہ کینیڈا چین کے ساتھ ایک نئی اسٹریٹجک شراکت داری قائم کر سکتا ہے، جبکہ صدر شی جن پنگ نے بھی کینیڈا کے ساتھ تعلقات میں مثبت موڑ کا خیر مقدم کیا۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں کینیڈین وزیرِ اعظم کے چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک کے لیے تجارتی معاہدہ کرنا ایک مثبت قدم ہے اور اگر کینیڈا چین کے ساتھ معاہدہ کر سکتا ہے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔ واضح رہے کہ کینیڈا اور چین کے تعلقات دو ہزار اٹھارہ میں اس وقت شدید خراب ہو گئے تھے جب کینیڈا نے امریکی وارنٹ پر ہواوے کی چیف فنانشل افسر کو گرفتار کیا۔ اس کے جواب میں چین نے جاسوسی کے الزامات میں دو کینیڈین شہریوں کو حراست میں لے لیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باہمی ٹیرف بھی عائد کیے گئے تھے۔ مارک کارنی اور شی جن پنگ کی پہلی ملاقات گزشتہ سال اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے پر اتفاق کیا تھا۔