بھارت سے تعلقات میں تناؤ، چین بنگلہ دیش میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے تیار
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بنگلہ دیش میں آئندہ ہفتے ہونے والے عام انتخابات کے بعد چین کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ متوقع ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بھارت اور ڈھاکہ کے تعلقات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد مسلسل زوال کا شکار ہیں۔ سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بنگلہ دیش کے لیے ممکن نہیں، تاہم موجودہ حالات میں چین زیادہ مضبوط اور متحرک شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں 12 فروری کو انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ دو بڑی جماعتیں جو اقتدار کی دوڑ میں شامل ہیں، تاریخی طور پر بھارت کے ساتھ اتنے قریبی تعلقات نہیں رکھتیں جتنے شیخ حسینہ نے اپنے پندرہ سالہ دورِ اقتدار کے دوران رکھے تھے۔ حسینہ کی عوامی لیگ پر پابندی عائد ہو چکی ہے اور وہ اس وقت نئی دہلی میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسی دوران چین نے ڈھاکہ میں اپنی سفارتی اور سرمایہ کاری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ حال ہی میں چین نے بنگلہ دیش کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے، جس کے تحت بھارت کی سرحد کے قریب ڈرون فیکٹری قائم کی جائے گی۔ چینی سفیر یاو وین کی بنگلہ دیشی سیاستدانوں، حکام اور صحافیوں سے ملاقاتیں معمول بن چکی ہیں، جن میں اربوں ڈالر کے انفراسٹرکچر منصوبوں اور دو طرفہ تعاون پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ممکنہ وزیر اعظم امیدوار طارق رحمان کے خارجہ امور کے مشیر ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی عوام بھارت کو شیخ حسینہ کے جرائم میں شریک سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے ملک کے ساتھ تعلقات یا کاروبار کو عوام قبول نہیں کریں گے جو ایک دہشت گرد کو پناہ دے اور بنگلہ دیش کو عدم استحکام کا شکار بنائے۔
تاہم طارق رحمان نے نسبتاً محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت تمام ممالک کے ساتھ دوستی کی خواہاں ہے، بشرطیکہ بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے مفادات کا تحفظ ہو۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں حالیہ ہفتوں میں کرکٹ کے میدان میں بھی کشیدگی دیکھی گئی۔ بنگلہ دیش کے ایک معروف باؤلر کو ہندو گروپوں کے دباؤ پر انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم سے نکال دیا گیا، جس کے بعد ڈھاکہ نے آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد کر دی۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش نے مردوں کے کرکٹ ورلڈ کپ کے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی، جسے آئی سی سی نے مسترد کر دیا، اور نتیجتاً بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے لیے ویزا پابندیاں بھی سخت کر دی ہیں، جبکہ سرکاری سطح پر روابط محدود ہو چکے ہیں۔ اگرچہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے دسمبر میں طارق رحمان سے ڈھاکہ میں ملاقات کی تھی، تاہم مجموعی تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ بھی کر رہی ہے، خاص طور پر اس فیصلے کے بعد جس میں ڈھاکہ کی عدالت نے گزشتہ سال مظاہرین کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن کے احکامات دینے پر حسینہ کو سزائے موت سنائی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین گزشتہ ایک دہائی سے بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جہاں سالانہ دو طرفہ تجارت تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اور بنگلہ دیش کی کل درآمدات میں چینی مصنوعات کا حصہ قریب 95 فیصد ہے۔ شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد چینی کمپنیوں نے بنگلہ دیش میں کروڑوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری بھی کی ہے، جبکہ بھارتی کمپنیوں کی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اور بنگلہ دیش اپنے تعلقات کو بہتر بنانے میں ناکام رہے تو آئندہ حکومت کے لیے چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ترغیب بڑھے گی، کیونکہ بیجنگ نہ صرف زیادہ معاشی فوائد فراہم کرتا ہے بلکہ مذہبی اقلیتوں کے معاملات میں بھی مداخلت سے گریز کرتا ہے۔