چین کا جدید بغیر پائلٹ ٹِلٹ روٹر طیارہ پہلی آزمائشی پرواز میں کامیاب
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
چین نے جدید عمودی پرواز کی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ چین کی یونائیٹڈ ایئرکرافٹ کمپنی کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ چھ ٹن وزنی بغیر پائلٹ ٹِلٹ روٹر طیارہ لانیئنگ آر 6000 نے جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے شہر دے یانگ میں اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کر لی۔ یہ طیارہ اب تک چین میں تیار ہونے والا سب سے بڑا ٹِلٹ روٹر ہوائی جہاز ہے جس نے پہلی پرواز کامیابی سے انجام دی ہے۔ لانیئنگ آر 6000 میں مکمل طور پر گھومنے والے انجن نیسل کے بجائے جدید جھکنے والے روٹر شافٹ کا ڈیزائن اختیار کیا گیا ہے، جس کے باعث پرواز کے کنٹرول اور پاور سسٹم میں نمایاں تکنیکی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ اس بغیر پائلٹ ہوائی جہاز کی زیادہ سے زیادہ مال برداری کی صلاحیت 2 ہزار کلوگرام ہے، جو اسی وزن کے ہیلی کاپٹروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ طیارہ 550 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے جبکہ اس کی پروازی حد تقریباً 4 ہزار کلومیٹر ہے۔ یہ طیارہ 7 ہزار 620 میٹر کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق لانیئنگ آر 6000 کو شہری علاقوں، سمندری راستوں اور پہاڑی خطوں میں پوائنٹ ٹو پوائنٹ فضائی آمد و رفت کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، جس سے ترسیل کے وقت اور فاصلے میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ یہ جدید طیارہ طبی ہنگامی صورتحال، آگ بجھانے، پولیس گشت اور بڑے پیمانے پر قدرتی آفات میں امدادی کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا، جس سے عملے اور امدادی سامان کی تیز اور مؤثر ترسیل ممکن ہو سکے گی۔