افغانستان سے سرحد پار حملے اور دراندازی معمول بن چکے، امریکی جریدہ

Afghan Taliban Afghan Taliban

افغانستان سے سرحد پار حملے اور دراندازی معمول بن چکے، امریکی جریدہ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی جریدے یوریشیا ریویو نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان سے ہمسایہ ممالک کی جانب سرحد پار حملے اور دراندازی ایک مسلسل رجحان اختیار کر چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان، ایران اور متعدد وسطی ایشیائی ریاستیں اس صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ افغانستان کو مسلح گروہوں اور سرحد پار جرائم کی سرگرمیوں کے لیے ایک حساس خطہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں۔ مزید یہ کہ تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا، جسے علاقائی سلامتی کے لیے تشویشناک عنصر قرار دیا گیا ہے۔

ادھر اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ داعش کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق شواہد عالمی شراکت داروں کے ساتھ شیئر کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یہ نہیں چاہتا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔ ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ داعش حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہے اور پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی اور عسکریت پسندی کے خطرات علاقائی تعاون اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔

Advertisement