کیوبا کو جیٹ فیول کے شدید بحران کا سامنا

Plane Plane

کیوبا کو جیٹ فیول کے شدید بحران کا سامنا

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
کیوبا کی سول ایوی ایشن اتھارٹیز نے امریکا کی جانب سے جاری توانائی پابندیوں کے باعث جیٹ فیول کی شدید قلت سے خبردار کرتے ہوئے بین الاقوامی ایئرلائنز کو آگاہ کر دیا ہے۔ ہوانا کے خوسے مارتی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ نوٹس ٹو ایئر مین کے مطابق کیوبا کے تمام نو بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پیر سے آنے والے طیاروں کے لیے کیروسین دستیاب نہیں ہوگا، جبکہ یہ بحران کم از کم مارچ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے جو کیوبا کو تیل فراہم کر رہے ہیں، جبکہ امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ معاشی بحران کیوبا کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے۔

ماضی میں ایئرلائنز اس نوعیت کے بحران سے نمٹنے کے لیے میکسیکو یا ڈومینیکن ریپبلک جیسے ممالک میں اضافی ری فیولنگ اسٹاپس کا سہارا لیتی رہی ہیں، تاہم مبصرین کے مطابق اس سے ٹکٹوں کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے سیاحت متاثر ہو سکتی ہے۔ کیوبا میں روسی سیاحوں کو ممکنہ مشکلات پر تبصرہ کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صورتحال کو ’’واقعی نازک‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ماسکو اپنے دیرینہ دوست ملک کی مدد کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے دباؤ اور پابندیوں کے اقدامات سنگین مسائل پیدا کر رہے ہیں اور روس کیوبا کے ساتھ مل کر ممکنہ حل یا کم از کم دستیاب مدد پر بات چیت کر رہا ہے۔

Advertisement

روسی میڈیا کے مطابق بعض ایئرلائنز نے اپنے فلائٹ شیڈول میں تبدیلیاں شروع کر دی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہوانا جانے والی ایک پرواز کے مسافروں کو آخری وقت میں ماسکو ہی میں روک لیا گیا کیونکہ طیارے کو ہنگامی بنیادوں پر کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکا نے 1960 کی دہائی میں سوویت یونین کے ساتھ کیوبا کے تعلقات کے باعث اس پر تجارتی پابندیاں عائد کی تھیں، جو سرد جنگ کے بعد بھی مختلف وجوہات کی بنا پر برقرار رہیں۔ صدر باراک اوباما کے دور میں سفارتی نرمی کو بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ نے واپس لے لیا۔ دسمبر 2025 میں امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ نے ان ٹینکروں کو روکنا شروع کیا جن پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔ امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ کیوبا دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتا ہے اور مغربی نصف کرے میں چینی اور روسی اثر و رسوخ کا ذریعہ ہے، جسے امریکا اپنا خصوصی دائرہ اثر سمجھتا ہے۔