یوکرین سے متعلق بیانات: چیک پارلیمنٹ کے اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی کوششیں
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
چیک جمہوریہ میں اپوزیشن جماعتوں نے یوکرین کے حوالے سے متنازع بیانات دینے پر پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (چیمبر آف ڈپیوٹیز) کے اسپیکر ٹومیو اوکامورا سے استعفیٰ لینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ چیک خبر رساں پورٹل ایروزلہاس کے مطابق اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو باضابطہ طور پر پارلیمنٹ میں لے جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹومیو اوکامورا نے نئے سال کے موقع پر فیس بک پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں یوکرین کو اسلحے کی فراہمی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی کمپنیاں اور حکومتیں، اور صدر زیلنسکی کے گرد موجود یوکرینی عناصر اس تنازع کے جاری رہنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اوکامورا کے بقول یوکرین میں بدعنوان عناصر عوامی وسائل لوٹ رہے ہیں اور مغربی امداد کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’انہیں لوٹنے دیں، مگر ہمارے خرچ پر نہیں، اور ایسے ملک کو یورپی یونین کا رکن نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ اوکامورا کے ان بیانات پر چیک پارلیمنٹ کی لبرل اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اسپیکر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔
چیک میڈیا کے مطابق چیمبر آف ڈپیوٹیز کی کل 200 نشستوں میں سے 108 نشستیں حکومتی جماعتوں کے پاس ہیں۔ ٹومیو اوکامورا ایس پی ڈی (فریڈم اینڈ ڈائریکٹ ڈیموکریسی) پارٹی کے سربراہ ہیں، جو حکومتی اتحاد کا حصہ ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومتی اتحاد میں اختلافات بڑھتے ہیں تو اوکامورا کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔