جرمنی، فرانس، سویڈن اور ناروے کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچنا شروع
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک (Nuuk) سے موصولہ تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان آرکٹک کے اس جزیرے کے حوالے سے جاری کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جمعرات 15 جنوری کو ہونے والے مذاکرات میں واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے مابین بنیادی اختلاف رائے شدت اختیار کر گیا، جس کا مقصد گرین لینڈ پر پیدا ہونے والے تنازع کو کم کرنا تھا۔ یہ اختلاف رائے اس قدر شدید ہے کہ اب یورپی یونین کے رکن اور غیر رکن ممالک کے مسلح فوجی دستے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان ممالک میں جرمنی، فرانس، سویڈن اور ناروے شامل ہیں۔ جرمنی اور فرانس کو یورپی یونین کی سیاست اور معیشت کا “انجن” سمجھا جاتا ہے۔
یہ فوجی تعیناتی ڈنمارک کی حمایت میں کی جا رہی ہے جو گرین لینڈ کو اپنی خودمختاری کے اندر رکھنے پر مصر ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں اور “قومی سلامتی” کے نام پر جزیرہ حاصل کرنے کی کوششوں کے بعد یورپی ممالک نے مشترکہ موقف اپناتے ہوئے فوجی موجودگی بڑھانا شروع کر دی ہے۔
گرین لینڈ کی خود مختار حکومت اور مقامی آبادی بھی اس تنازع میں ڈنمارک کے ساتھ کھڑی ہے اور امریکی دباؤ کو مسترد کر رہی ہے۔