ڈنمارک نے روس کو گرین لینڈ کے لیے خطرہ قرار دے دیا

Greenland Greenland

ڈنمارک نے روس کو گرین لینڈ کے لیے خطرہ قرار دے دیا

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ڈنمارک کی جوائنٹ آرکٹک کمانڈ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے اس کی توجہ امریکہ نہیں بلکہ مبینہ طور پر روس سے لاحق خطرات پر مرکوز ہے۔ یہ بات گرین لینڈ میں ڈنمارک کی جوائنٹ آرکٹک کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل سورن اینڈرسن نے 17 جنوری کو کہی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، میجر جنرل سورن اینڈرسن نے ایک ڈینش جنگی بحری جہاز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میری توجہ امریکہ پر بالکل نہیں، میری توجہ روس پر ہے۔”ڈینش فوجی کمانڈر نے اس امکان کو بھی مسترد کیا کہ نیٹو کے اتحادی ممالک کے درمیان کوئی فوجی تصادم ہو سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ ایک اتحادی ملک دوسرے پر حملہ کرے۔

اسی دوران ڈنمارک کی آرکٹک کمانڈ نے امریکی فوجی اہلکاروں کو آرکٹک اینڈیورینس نامی فوجی مشقوں میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے، جن کا مقصد شدید سرد موسمی حالات میں افواج کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا ہے۔ دوسری جانب، 16 جنوری کو ڈنمارک میں روسی سفیر ولادیمیر باربن نے واضح طور پر کہا تھا کہ روس کا گرین لینڈ پر کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ انہوں نے ڈینش وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ نہ روس اور نہ ہی چین اس وقت گرین لینڈ کے لیے کوئی خطرہ ہیں۔ ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی واضح کیا ہے کہ روس گرین لینڈ کو ڈنمارک کا خودمختار علاقہ تسلیم کرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے الحاق سے متعلق بیانات نے اس معاملے کو غیر معمولی بنا دیا ہے، جو بین الاقوامی قانون کے نقطۂ نظر سے بھی ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔

Advertisement